۷۱۷۰ : قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ عَلَی الرَّجُلِ أَنْ یُسَوِّیَ بَیْنَ مَمْلُوْکِہِ وَبَیْنَ نَفْسِہِ فِی الطَّعَامِ ، وَالْکِسْوَۃِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا رَوَیْنَاہُ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَبِمَا رَوَیْنَاہُ مِنْ مَذْہَبِ أَبِی الْیُسْرِ ، وَأَبِیْ ذٰر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، الَّذِیْ ذٰکَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : الَّذِیْ یَجِبُ لِلْمَمْلُوْکِ عَلَی مَوْلَاہُ ہُوَ طَعَامُہُ وَکِسْوَتُہٗ، لَا غَیْرُ ذٰلِکَ مِمَّا یُوَسِّعُ بِہٖ الرَّجُلُ عَلٰی نَفْسِہٖ۔ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٧١٧٠ : مجاہد نے مورق سے ‘ انھوں نے حضرت ابوذر (رض) سے ‘ انھوں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ مالک اپنے اور غلام کے درمیان کھانے اور پہننے میں برابری کرے انھوں نے ان روایات سے جو ابوالولید اور ابو ذر (رض) سے نقل ہو کر آئی ہیں ‘ استدلال کیا ہے وسرے فریق کا مؤقف ہے کہ مالک پر غلام کا حق یہ ہے کہ وہ اسے کھانا اور کپڑے دے اور بس اور یہ اپنی وسعت کی حد تک دے۔ ان کی دلیل یہ روایات ہیں۔