hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7176

.

الطحاوي

7176
Al Tahawi
۷۱۷۳ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا أَتٰی أَحَدُکُمْ خَادِمَہٗ بِطَعَامِہٖ، فَاِنْ لَمْ یُجْلِسْہُ مَعَہٗ، فَلْیُنَاوِلْہُ أَکْلَۃً أَوْ أَکْلَتَیْنِ أَوْ قَالَ : لُقْمَۃً ، أَوْ لُقْمَتَیْنِ ، فَاِنَّہٗ وَلِیَ حَرَّہُ وَعِلَاجَہٗ۔ أَفَلَا تَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ وَسَّعَ عَلَی الْمَوْلَی أَنْ یُطْعِمَ عَبْدَہُ مِنْ طَعَامِہِ الَّذِیْ قَدْ وَلِیَ صَنْعَتَہُ لَہٗ عَبْدُہُ لُقْمَۃً وَاحِدَۃً ثُمَّ یَسْتَأْثِرُ ہُوَ بِمَا بَقِیَ مِنْ ذٰلِکَ الطَّعَامِ بَعْدَ تِلْکَ اللُّقْمَۃِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَعْنٰی مَا أَرَادَ بِقَوْلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَطْعِمُوْھُمْ مِمَّا تَأْکُلُوْنَ اِنَّہٗ لَمْ یُرِدْ الْمُسَاوَاۃَ وَکَذٰلِکَ مَعْنٰی قَوْلِہٖ وَاکْسُوْھُمْ مِمَّا تَلْبَسُوْنَ۔وَأَمَّا مَا فَعَلَ أَبُو الْیُسْرِ فَعَلَی الْاِشْفَاقِ مِنْہُ وَالْخَوْفِ لَا عَلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ .وَہٰذَا الَّذِیْ صَحَّحْنَا عَلَیْہِ مَعَانِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ.
٧١٧٣: محمد بن زیاد نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا تیار کرے تو اگر وہ اس کو اپنے ساتھ نہ بٹھائے تو وہ اسے ایک دو لقمے دے۔ دے (لقمہ بولا یا اگلا) کیونکہ اس نے گرمی اور مشقت برداشت کی ہے۔ ذرا غور فرمائیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مالک کو کھلا اختیار دیا کہ وہ اس کھانے میں سے جس کو غلام نے تیار کیا ہے ایک لقمہ دے دے پھر باقی کھانے کو اپنے لیے اختیار کرے تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد گرامی کہ ان کو اس چیز سے کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ سے مساوات مراد نہیں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی مساوات مراد نہیں کہ ان کو اس چیز سے پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔ جہاں تک حضرت ابوالیسر (رض) کے عمل و فعل کا تعلق ہے تو وہ ان کی خوف خدا تعالیٰ کی وجہ سے احتیاط ہے نہ کچھ اور ۔ ہم نے ان آثار کے معانی کی تصحیح اس انداز سے کی ہے یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
تخریج : بخاری فی العتق باب ١٨‘ والاطعمہ باب ٥٥‘ مسند احمد ٢‘ ٤٠٩؍٤٣٠۔