۷۱۷۵ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ الْأَصْبَہَانِیُّ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، لَیَبْعَثَن اللّٰہُ عَلَیْکُمْ رَجُلًا ، امْتَحَنَ اللّٰہُ بِہٖ الْاِیْمَانَ ، یَضْرِبُ رِقَابَکُمْ عَلَی الدِّیْنِ .فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : أَنَا ہُوَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ لَا .فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : أَنَا ہُوَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ لَا وَلٰـکِنَّہٗ خَاصِفُ النَّعْلِ فِی الْمَسْجِدِ .قَالَ : وَکَانَ قَدْ أَلْقَیْ اِلٰی عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نَعْلَہٗ یَخْصِفُہَا۔أَفَلَا تَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَنْہَ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ خَصْفِ النَّعْلِ فِی الْمَسْجِدِ ، وَأَنَّ النَّاسَ لَوْ اجْتَمَعُوْا حَتّٰی یَعُمُّوْا الْمَسْجِدَ بِخَصْفِ النِّعَالِ ، کَانَ ذٰلِکَ مَکْرُوْہًا .فَلَمَّا کَانَ مَا لَا یَعُمُّ الْمَسْجِدَ مِنْ ہٰذَا غَیْرُ مَکْرُوْہٍ وَمَا یَعُمُّہُ مِنْہٗ، أَوْ یَغْلِبُ عَلَیْہِ مَکْرُوْہًا کَانَ ذٰلِکَ فِی الْبَیْعِ ، وَاِنْشَادُ الشِّعْرِ ، وَالتَّحَلُّقُ فِیْہِ قَبْلَ الصَّلَاۃِ مِمَّا عَمَّہٗ مِنْ ذٰلِکَ فَہُوَ مَکْرُوْہٌ ، وَمَا لَمْ یَعُمَّہٗ مِنْہٗ، وَلَمْ یَغْلِبْ عَلَیْہٖ، فَلَیْسَ بِمَکْرُوْہٍ ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ .
٧١٧٥: ربعی بن حراش نے حضرت علی (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا اے گروہ قریش ! اللہ تعالیٰ تم پر ایک آدمی کو مقرر کریں گے جس سے تمہارے ایمان کو پرکھیں گے۔ وہ ایمان پر تمہاری گردنوں کو مارے گا۔ حضرت ابوبکر (رض) کہنے لگے کیا وہ میں ہوں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ فرمایا نہیں حضرت عمر (رض) نے کہا کیا وہ میں ہوں فرمایا نہیں۔ بلکہ وہ مسجد میں جوتے گانٹھنے والا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا جوتا حضرت علی (رض) کی طرف پھینکا تاکہ وہ اس کو گانٹھ دیں۔ کیا آپ غور نہیں فرماتے کہ آپ نے اپنا نعل مبارک خود حضرت علی (رض) کی طرف پھینکا اور اس کو مرمت کرنے کا حکم فرمایا ان کو مسجد میں مرمت کرنے سے نہیں روکا۔ اگر لوگ جوتے گانٹھنے کا اپنا طرز عمل بنالیں اور کثرت سے کرنے لگیں تو یہ مکروہ ہے جس کی روایت میں مذمت کی گئی ہے۔ پس جب کبھی کبھی گانٹھنا کراہت والے عمومی حکم میں داخل و شامل نہیں فرمایا بلکہ اس فعل کی کثرت یا عام لوگوں کے شروع کردینے کو مکروہ قرار دیا تو یہی حکم اشعار و بیع کے متعلق بھی ہوگا اور نماز سے پہلے حلقہ بندی کا بھی یہی حکم ہے۔ اور اگر کبھی اور اتفاقی ہو یا بعض لوگوں کی ہو تو مکروہ نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
تخریج : ترمذی فی المناقب باب ١٩‘ مسند احمد ٣‘ ٣٣؍٨٢‘ ٦‘ ١٠٦؍١٢١‘ ١٦٧؍٢٤٢۔
حاصل کلام : کیا آپ غور نہیں فرماتے کہ آپ نے اپنا نعل مبارک خود حضرت علی (رض) کی طرف پھینکا اور اس کو مرمت کرنے کا حکم فرمایا ان کو مسجد میں مرمت کرنے سے نہیں روکا۔ اگر لوگ جوتے گانٹھنے کا اپنا طرز عمل بنالیں اور کثرت سے کرنے لگیں تو یہ مکروہ ہے جس کی روایت میں مذمت کی گئی ہے۔ پس جب کبھی کبھی گانٹھنا کراہت والے عمومی حکم میں داخل و شامل نہیں فرمایا بلکہ اس فعل کی کثرت یا عام لوگوں کے شروع کردینے کو مکروہ قرار دیا تو یہی حکم اشعار و بیع کے متعلق بھی ہوگا اور نماز سے پہلے حلقہ بندی کا بھی یہی حکم ہے۔ اور اگر کبھی اور اتفاقی ہو یا بعض لوگوں کی ہو تو مکروہ نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔