hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7184

.

الطحاوي

7184
Al Tahawi
۷۱۸۱ : فَاِذَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ قَدْ حَدَّثَنَا ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ الطَّیَالِسِیُّ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ بَیْعِ الْعِنَبِ حَتّٰی یَسْوَدَّ ، وَعَنْ بَیْعِ الْحَبِّ حَتّٰی یَشْتَدَّ۔فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلَی اِبَاحَۃِ بَیْعِہِ بَعْدَمَا یَشْتَدُّ وَہُوَ فِیْ سُنْبُلِہٖ ، لِأَنَّہٗ لَوْ لَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ لَقَالَ حَتّٰی یَشْتَدَّ وَیَبْرَأَ مِنْ سُنْبُلِہِ۔فَلَمَّا جَعَلَ الْغَایَۃَ فِی الْبَیْعِ الْمَنْہِیِّ عَنْہُ، ہِیَ شِدَّتُہُ وَیُبُوْسَتُہٗ، دَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ الْبَیْعَ بَعْدَ ذٰلِکَ بِخِلَافِ مَا کَانَ عَلَیْہِ فِی الْبَدْئِ .فَلَمَّا جَازَ بَیْعُ الْحَبِّ الْمُغَیَّبِ فِی السُّنْبُلِ ، الَّذِیْ لَمْ یَبِعْ ، دَلَّ ہٰذَا عَلٰی جَوَازِ بَیْعِ مَا لَا یَرَاہُ الْمُتَبَایِعَانِ ، اِذَا کَانَا یَرْجِعَانِ مَعَہٗ اِلٰی مَعْلُوْمٍ ، کَمَا یَرْجِعَانِ مِنَ الْحِنْطَۃِ الْمَبِیْعَۃِ الْمُغَیَّبَۃِ فِی السُّنْبُلِ اِلَی حِنْطَۃٍ مَعْلُوْمَۃٍ .وَأَوْلَی الْأَشْیَائِ بِنَا فِیْ مِثْلِ ہٰذَا اِذْ کُنَّا قَدْ وَقَفْنَا عَلَی تَأْوِیْلِ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، وَاحْتَمَلَ الْحَدِیْثُ الْآخَرُ ، مُوَافَقَتَہٗ، أَوْ مُخَالَفَتَہٗ أَنْ نَحْمِلَہٗ عَلٰی مُوَافَقَتِہٖ، لَا عَلٰی مُخَالَفَتِہٖ۔
٧١٨١: حمید نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انگور کی بیع سے اس وقت تک منع فرمایا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوجائیں اور دانے کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ سخت ہوجائے۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ دانے کی بیع سخت ہوجانے کے بعد درست ہے اگرچہ وہ اپنے سٹے میں ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اس کو تسلیم نہ کیا جائے تو اس طرح کہنا چاہیے :” حتی یشتد ویبراء من سنبلہ “ تھا کہ دانے سخت ہو کر اپنے سٹے سے باہر نکل آئے۔ اب ممنوعہ بیع کی انتہاء دانے کی سختی اور خشک ہوجانے کو قرار دیا تو اس سے یہ صاف دلالت مل گئی کہ اس کے بعد والے سودے کو اس کے بدء صلاح والے سودے پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ تو جب سٹے کے اندر چھپے ہوئے دانے کی بیع سٹے کے بغیر جائز ہے تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جس چیز کو بائع و مشتری نے نہ دیکھا ہو اس کی بیع جائز ہے بشرطیکہ وہ چیز اسی طرح معلوم و معین ہو جس طرح سٹے میں پوشیدہ دانہ معلوم و معین ہے اور وہ گندم ہے۔ اب جبکہ ہم اس روایت کی تاویل جان چکے اور دوسری روایت میں موافقت و مخالفت دونوں کا احتمال ہے تو ہم موافقت پر محمول کریں گے نہ کہ مخالفت پر (کیونکہ اصل مقصود تو روایات پر زیادہ سے زیادہ عمل ہے)
تخریج : ابو داؤد فی البیوع باب ٢٢‘ ترمذی فی البیوع باب ١٥‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ٣٢‘ مسند احمد ٣؍٢٢١‘ ٢٥٠۔