۷۱۸۲ : وَقَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فِیْ تَفْسِیْرِ الْمُلَامَسَۃِ ، وَالْمُنَابَذَۃِ .قَالَ کَانَ الْقَوْمُ یَتَبَایَعُوْنَ السِّلَعَ ، لَا یَنْظُرُوْنَ اِلَیْہَا ، وَلَا یُخْبِرُوْنَ عَنْہَا۔وَالْمُنَابَذَۃُ : أَنْ یَتَنَابَذَ الْقَوْمُ السِّلَعَ ، لَا یَنْظُرُوْنَ اِلَیْہَا ، وَلَا یُخْبِرُوْنَ عَنْہَا ، فَہٰذَا مِنْ أَبْوَابِ الْقِمَارِ۔
٧١٨٢: یونس نے ابن شہاب سے ملامست اور منابذہ کی تفسیر اس طرح نقل کی ہے کہ لوگ سامان باہمی فروخت کرتے مگر اس کو نہ تو دیکھتے اور نہ اس کی اطلاع دیتے اس کی ملامسۃ کہا جاتا تھا اور منابذہ یہ ہے کہ لوگ سامان ایک دوسرے کی طرف بلا دیکھے پھینک دیتے اور نہ سامان دیکھتے اور نہ اس کی اطلاع دیتے یہ دونوں جوئے کی صورتوں میں سے ہیں۔