۷۱۸۴ : وَقَدْ حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْیَمَانِ قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِیْ حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، رَکِبَ یَوْمًا مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ وَہُوَ رَجُلٌ مِنْ أَزْدِ شَنُوْئَ ۃَ ، حَلِیْفٌ لِبَنِی الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَہُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی أَرْضٍ لَہٗ بِرِیْمٍ .فَابْتَاعَہَا مِنْہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَلٰی أَنْ یَنْظُرَ اِلَیْہَا وَرِیْمٌ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ عَلَی قَرِیْبٍ مِنْ ثَلَاثِیْنَ مِیْلًا .فَہٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْن بُحَیْنَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ قَدْ تَبَایَعَا مَا ہُوَ غَائِبٌ عَنْہُمَا ، وَرَأَیَا ذٰلِکَ جَائِزًا .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : اِنَّمَا جَازَ ذٰلِکَ لِاشْتِرَاطِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، الْخِیَارَ .قِیْلَ لَہٗ : اِنَّ ذٰلِکَ الْخِیَارَ لَمْ یَجِبْ لِابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مِنْ جِہَۃِ الْاِشْتِرَاطِ ، وَلَوْ کَانَ مِنْ جِہَۃِ الْاِشْتِرَاطِ وَجَبَ ، لَکَانَ الْبَیْعُ فَاسِدًا .أَلَا تَرَی أَنَّ رَجُلًا لَوِ اشْتَرٰی مِنْ رَجُلٍ عَبْدًا ، أَوْ أَرْضًا عَلٰی أَنَّہٗ بِالْخِیَارِ فِیْہَا لَا اِلٰی وَقْتٍ مَعْلُوْمٍ ، أَنَّ الْبَیْعَ فَاسِدٌ .وَابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ الَّذِیْ رَوَیْنَاہٗ عَنْہُ لَمْ یَشْتَرِطْ خِیَارَ الرُّؤْیَۃِ اِلٰی وَقْتٍ مَعْلُوْمٍ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ ذٰلِکَ الْخِیَارَ الَّذِی اشْتَرَطَہٗ، ہُوَ خِیَارٌ یَجِبُ لَہٗ بِحَقِّ الْعَقْدِ وَہُوَ خِیَارُ الرُّؤْیَۃِ الَّذِیْ ذٰہَبَ اِلَیْہِ طَلْحَۃُ وَجُبَیْرٌ فِیْمَا رَوَیْنَاہٗ عَنْہُمَا ، لَا خِیَارُ شَرْطٍ .
٧١٨٤: سالم کہتے ہیں کہ ایک دن عبداللہ بن عمر (رض) ‘ عبداللہ بن بحینہ صحابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور ان کا تعلق قبیلہ ازدشنوہ سے ہے حضرت عبداللہ نے ان سے وہ زمین اس شرط پر خریدی کہ وہ اس کو دیکھ لیں یہ ریم مدینہ منورہ سے تیس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ عبداللہ بن عمر (رض) اور عبداللہ بن بحینہ (رض) ہیں جنہوں نے آپس میں غائب (زمین) کا سودا کیا اور اس کو جائز قرار دیا تبھی خریدا۔ یہ غائب کی بیع تو اس لیے جائز ہوگئی کہ ابن عمر (رض) نے خیار شرط رکھا تھا۔ یہ خیار بطور اشتراط کے ابن عمر (رض) کے لیے لازم نہ تھا اگر یہ بطور شرط واجب ہوتا تو بیع فاسد ہوتی۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی آدمی دوسرے آدمی سے کوئی غلام خریدے یا زمین خریدے اور یہ شرط لگائے اس کو غیر معین وقت تک خیار حاصل ہے تو یہ بیع فاسد ہے اور اس روایت میں تو ابن عمر (رض) نے وقت معلوم تک کا بھی خیار بطور شرط مقرر نہ فرمایا تھا۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ خیار جس کی انھوں نے شرط لگائی وہ وہی خیار ہے جو عقد کے حق کی وجہ سے لازم ہوتا ہے اور وہ وہی خیار رویت ہے جس کی طرف حضرت طلحہ و زبیر (رض) گئے ہیں جیسا کہ ہم نے ان کی روایت پہلے نقل کی ہے وہ خیار شرط ہرگز نہیں ہے۔