hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7188

.

الطحاوي

7188
Al Tahawi
۷۱۸۵ : وَقَدْ حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ صَالِحٍ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ قَالَ : حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا : کُنَّا اِذَا تَبَایَعْنَا ، کَانَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقْ الْمُتَبَایِعَانِ .قَالَ : فَتَبَایَعْتُ، أَنَا وَعُثْمَانُ ، فَبِعْتُہٗ مَالًا لِیْ بِالْوَادِی ، بِمَا لَہٗ بِخَیْبَرَ .قَالَ : فَلَمَّا بَایَعْتُہٗ ، طَفِقْتُ أَنْکُصُ عَلٰی عَقِبِیْ نَکْصَ الْقَہْقَرَی ، خَشْیَۃَ أَنْ یَتَرَادَنِیَ الْبَیْعَ عُثْمَانُ قَبْلَ أَنْ أُفَارِقَہٗ .فَہٰذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ قَدْ تَبَایَعَا مَا ہُوَ غَائِبٌ عَنْہُمَا ، وَرَأَیَا ذٰلِکَ جَائِزًا ، وَذٰلِکَ بِحَضْرَۃِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ یُنْکِرْہُ عَلَیْہِمَا مُنْکِرٌ .
٧١٨٥: سالم کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) فرمانے لگے کہ جب ہم آپس میں خریدو فروخت کرتے تو ہم میں سے ہر ایک کو سودے کے باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہوتا جب تک کہ بائع و مشتری جدا نہ ہوتے۔ کہنے لگے ایک دفعہ میں اور عثمان (رض) نے آپس میں سودا کیا میں نے ان کو اپنا وہ مال جو وادی (القریٰ ) میں تھا ان کے خیبر کے مال کے بدلے فروخت کیا۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے ان سے بیع کرلی تو میں اپنے پچھلے قدموں واپس مڑا۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ عثمان (رض) جدا ہونے سے پہلے مجھ سے یہ سودا واپس نہ لے لیں۔ یہ حضرت عثمان (رض) اور عبداللہ بن عمر (رض) ہیں۔ دونوں نے باہمی اس چیز کا سودا کیا جو کہ دونوں سے غائب تھی اور اس کو درست قرار دیا اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام کی موجودگی میں ہوا اور ان کے متعلق کسی نے تنقید و انکار نہیں کیا۔