۷۱۸۷ : حَدَّثَنَا أَبُوْزَرٍّ ، عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ قَالَ : ثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ قَالَ : ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ أَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ أَبِیْ بُرْدَۃَ بْنِ أَبِیْ مُرْسِیْ عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُسْتَأْمَرُ الْیَتِیْمَۃُ فِیْ نَفْسِہَا ، فَاِنْ سَکَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ ، وَاِنْ أَنْکَرَتْ ، لَمْ تُکْرَہْ۔
٧١٨٧: یونس بن ابو اسحاق نے ابو بردہ بن حضرت ابو موسیٰ (رض) سے روایت کی انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یتیم لڑکی سے اس کی ذات کے متعلق دریافت کیا جائے گا پس اگر وہ خاموش رہی تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اگر اس نے انکار کردیا تو اس کو مجبور نہ کیا جائے گا۔
تخریج : دارمی فی النکاح باب ١٢‘ مسند احمد ٤‘ ٣٩٤؍٤١١۔
خلاصہ الزام :
فریق اوّل : بالغہ باکرہ لڑکی کا نکاح اس کا والد اس کی اجازت کے بغیر کرسکتا ہے اس سے اجازت کی ضرورت نہیں۔ یہ امام مالک (رح) کا قول ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف :
باکرہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کا ولی اس سے اجازت لیے بغیر نہیں کرسکتا۔
فریق اوّل کی مستدلات :