۷۱۹۱ : مَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ قَالَ : ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَیُّوْبَ السِّخْتِیَانِیِّ عَنْ عِکْرَمَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَرَّقَ بَیْنَ رَجُلٍ وَبَیْنَ امْرَأَۃٍ ، زَوَّجَہَا أَبُوْہَا ، وَہِیَ کَارِہَۃٌ ، وَکَانَتْ ثَیِّبًا۔فَثَبَتَ بِذٰلِکَ عِنْدَہُمْ ، خَطَأُ جَرِیْرٍ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مِنْ وَجْہَیْنِ .أَمَّا أَحَدُہُمَا ، فَاِدْخَالُہُ ابْنَ عَبَّاسٍ فِیْہِ .وَأَمَّا الْآخَرُ ، فَذَکَرَ فِیْہِ أَنَّہَا کَانَتْ بِکْرًا ، وَاِنَّمَا کَانَتْ ثَیِّبًا .وَمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٧١٩١: ایوب نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرد و عورت کے مابین تفریق کرا دی جس عورت کے والد نے اس کا نکاح اس حالت میں کیا تھا کہ وہ عورت ناپسند کرتی تھی اور یہ عورت پہلے شادی شدہ تھی۔ اس روایت نے جریر کی دو غلطیاں ثابت کی ہیں۔ روایت کو موقوف تابعی کی بجائے مرفوع بیان کیا ہے۔ جریر نے اس کا باکرہ ہونا ذکر کیا جبکہ وہ ثیبہ تھی۔
حاصل یہ ہے : اس روایت نے جریر کی دو غلطیاں ثابت کی ہیں۔