۷۲۰۲ : مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرٍ الرَّقِّیُّ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ یَقُوْلُ : قَالَ ذَکْوَانُ ، مَوْلٰی عَائِشَۃَ : سَمِعْت عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تَقُوْلُ : سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَارِیَۃِ یَنْکِحُہَا أَہْلُہَا : أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا ؟ قَالَ نَعَمْ ، تُسْتَأْمَرُ .فَقُلْتُ :اِنَّہَا تَسْتَحْیِیْ فَتَسْکُتُ قَالَ فَذَاکَ اِذْنُہَا اِذَا ہِیَ سَکَتَتْ۔فَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ سَوَّیْ بَیْنَ أَہْلِ الْبِکْرِ جَمِیْعًا فِیْ تَزْوِیْجِہَا ، وَلَمْ یَفْصِلْ فِیْ ذٰلِکَ بَیْنَ حُکْمِ أَبِیہَا ، وَلَا حُکْمِ غَیْرِہِ مِنْ سَائِرِ أَہْلِہَا .وَأَمَّا أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَرُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
٧٢٠٢: ذکوان مولیٰ عائشہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) کو فرماتے سنا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس لڑکی کے متعلق دریافت کیا جس کے گھر والے اس کا نکاح کرنا چاہتے ہوں اس سے اجازت طلب کی جائے گی یا نہیں۔ آپ نے فرمایا جی ہاں۔ اس سے اجازت طلب کی جائے گی میں نے کہا وہ حیاء سے خاموش رہے گی فرمایا تو خاموشی اس کی اجازت ہے۔ یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں آپ نے کنواری لڑکی کے گھر والوں کے لیے ان کے نکاح کے سلسلہ میں ایک جیسا حکم بیان فرمایا اور اس سلسلہ میں اس کے والد اور دیگر گھر والوں کے احکام میں کوئی فرق نہیں کیا اس سلسلہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایات اس طرح ہیں۔
روایات حضرت ابوہریرہ (رض) :