۷۲۰۱ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا یَحْیٰی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْسَ لِلْأَبِ مَعَ الثَّیِّبِ أَمْرٌ ، وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ ، وَاِذْنُہَا صُمَاتُہَا۔فَہٰذَا مَعْنَاہٗ، مَعْنَی الْأَوَّلِ ، سَوَائٌ .وَالْبِکْرُ الْمَذْکُوْرَۃُ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ہِیَ الْبِکْرُ ذَاتُ الْأَبِ ، کَمَا أَنَّ الثَّیِّبَ الْمَذْکُوْرَۃَ فِیْہٖ، کَذٰلِکَ .فَہٰذَا مَا رُوِیَ لَنَا فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَأَمَّا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَرُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ‘ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
٧٢٠١: صالح بن کیسان نے نافع بن جبیر سے انھوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ والد کو بیوہ کے معاملے میں کچھ اختیار نہیں اور باکرہ سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔ اس روایت اور پہلی روایت کا مفہوم ایک جیسا ہے اور وہ باکرہ جس کا تذکرہ اس روایت میں وارد ہے وہ والد والی ہے جیسا کہ اس روایت میں مذکورہ ثیبہ والد والی ہے۔ یہ اس سلسلہ میں حضرت ابن عباس (رض) کی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سات روایات ہیں۔
حاصل روایت :
اس روایت اور پہلی روایت کا مفہوم ایک جیسا ہے اور وہ باکرہ جس کا تذکرہ اس روایت میں وارد ہے وہ والد والی ہے جیسا کہ اس روایت میں مذکورہ ثیبہ والد والی ہے۔
یہ اس سلسلہ میں حضرت ابن عباس (رض) کی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سات روایات ہیں۔
روایات حضرت عائشہ (رض) :