۷۲۱۱ : حَدَّثَنَا یَحْیٰی بْنُ عُثْمَانَ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِیْعِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ : ثَنَا یَحْیٰی بْنُ أَیُّوْبَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَدِیْ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنِ الْفَرَسِ وَہُوَ ابْنُ عَمِیْرَۃَ وَقَدْ کَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَہٰذَا کَنَحْوِ مَا رَوَیْ یَحْیٰی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَہٰذَا تَصْحِیْحُ الْآثَارِ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، قَدْ دَلَّ أَنَّ أَبَا الْبِکْرِ ، لَا یُزَوِّجُہَا بَعْدَ بُلُوْغِہَا ، اِلَّا کَمَا یُزَوِّجُہَا سَائِرُ أَوْلِیَائِہَا بَعْدَہٗ. وَقَدْ قَدَّمْنَا مِنْ ذِکْرِ النَّظَرِ فِیْ ذٰلِکَ فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ مَا یُغْنِیْنَا عَنْ اِعَادَتِہِ ہَاہُنَا فَبِذٰلِکَ کُلِّہِ نَأْخُذُ .نَرَی أَنْ لَا یُزَوِّجَ أَبُ الْبِکْرِ ابْنَتَہُ الْبِکْرَ الْبَالِغَۃَ اِلَّا بَعْدَ اسْتِئْمَارِہٖ اِیَّاہَا فِیْ ذٰلِکَ وَعِنْدَ صُمَاتِہَا عِنْدَ ذٰلِکَ الْاِسْتِئْمَارِ وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .وَقَدْ احْتَجَّ قَوْمٌ فِیْ ذٰلِکَ بِمَا رُوِیَ فِیْ بِنْتِ نُعَیْمِ بْنِ النَّحَّامِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٧٢١١: عدی ابن عدی نے اپنے والد سے انھوں نے الفرس سے جو کہ ابن عمیرہ ہیں اور یہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے ہیں اسی طرح روایت نقل کی۔ پس یہ روایت اسی طرح ہے جس طرح یحییٰ بن کثیر نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے اور انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی۔ اس باب میں روایات کی تصحیح اس پر دلالت کر رہی ہے کہ کنواری لڑکی کے بلوغ کے بعد اس کا والد اسی طرح اس کا نکاح کرے گا (یعنی اجازت لے کر) جیسا کہ دوسرے اولیاء کرتے ہیں جبکہ والد موجود نہ ہو اور قیاس کا تقاضا ہم پہلے شروع باب میں ہی نقل کرچکے دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں اس سلسلے میں ہمارا مؤقف یہی ہے ہمارا خیال یہ ہے کہ کنواری لڑکی کا باپ کنواری بالغہ سے اجازت طلب کرنے کے بعد اس کا نکاح کرے اور طلب اجازت کے بعد اس کی خاموشی پر اس کا نکاح کرے یہی ہمارے ائمہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ بعض لوگوں نے بنت نعیم بن نحام (رض) کی روایت سے دلیل پکڑی ہے روایت یہ ہے۔ ملاحظہ ہو۔