hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7215

.

الطحاوي

7215
Al Tahawi
۷۲۱۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیْعَۃَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ نُعَیْمٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ النَّحَّامِ أَخْبَرَہٗ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہٗ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اُخْطُبْ عَلٰی ابْنَۃِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ النَّحَّامِ فَقَالَ لَہٗ : اِنَّ لَہٗ ابْنَ أَخٍ وَلَمْ یَکُنْ لِیَنْکِحَکَ وَیَتْرُکَہُمْ .فَذَہَبَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اِلَی زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ فَکَلَّمَہٗ، فَخَطَبَ عَلَیْہِ .فَقَالَ ابْنُ النَّحَّامِ مَا کُنْتُ لِأُتَرِّبَ لَحْمِیْ وَدَمِیْ، وَأَرْفَعَ لَحْمَکُمْ فَأَنْکَحَہَا ابْنَ أَخِیْہِ وَکَانَ ہَوَی الْجَارِیَۃِ وَأُمِّہَا فِی ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .فَذَہَبَتِ الْمَرْأَۃُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْہُ أَنَّ أَبَاہَا أَنْکَحَہَا وَلَمْ یُؤَامِرْہَا ، فَأَجَازَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نِکَاحَہَا .وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِیْ أَنْفُسِہِنَّ فَکَانَتِ الْجَارِیَۃُ بِکْرًا .فَقَالَ ابْنُ النَّحَّامِ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّمَا یَکْرَہُوْنَہُ مِنْ أَجْلِ أَنَّہٗ لَا مَالَ لَہٗ، فَاِنَّ لَہٗ فِیْ مَالِیْ مِثْلَ مَا أَعْطَاہُمُ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا۔قَالُوْا : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَجَازَ عَلَیْہَا نِکَاحَ أَبِیہَا وَہِیَ کَارِہَۃٌ لَہٗ، اِذْ کَانَتْ بِکْرًا ، وَلَمْ یَجْعَلْ لَہَا مَعَ أَبِیہَا رَأْیًا فِیْ عَقْدِ النِّکَاحِ عَلَیْہِ قِیْلَ لَہٗ : لَوْ کَانَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ صَحِیْحًا ثَابِتًا عَلٰی مَا رَوَیْنَا ، وَکَیْفَ یَکُوْنُ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ وَقَدْ رَوَاہُ اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ فَخَالَفَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ لَہِیْعَۃَ فِیْ اِسْنَادِہٖ وَفِیْ مَتْنِہٖ۔
٧٢١٢: عبداللہ ابن نحام نے بتلایا کہ میرے والد نے عبداللہ ابن عمر (رض) کے واسطہ سے یہ بات نقل کی کہ انھوں نے حضرت عمر (رض) سے کہا کہ میرے لیے عبداللہ بن نحام کی بیٹی کے نکاح کا پیغام دیں تو حضرت عمر (رض) نے جواب دیا کہ ان کا اپنا بھتیجا موجود ہے وہ انھیں چھوڑ کر تیرے ساتھ نکاح نہیں کرسکتا چنانچہ ابن عمر زید بن خطاب کے پاس گئے اور ان سے بات چیت کی تو انھوں نے عبداللہ ابن نحام کو پیغام بھیجا تو ابن نحام نے جواب دیا میں اپنے خون اور گوشت کو مٹی میں لت پت کر کے تمہارے گوشت کو کیسے بلند کرسکتا ہوں چنانچہ ابن نحام نے اپنے بھتیجے سے نکاح کردیا مگر لڑکی اور اس کی والدہ کا میلان ابن عمر (رض) سے نکاح کی طرف تھا چنانچہ لڑکی کی والدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ اس لڑکی کے والد نے اس کا نکاح کردیا اور لڑکی سے اجازت طلب نہیں کی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے نکاح کو برقرار رکھا اور آپ نے ارشاد فرمایا عورتوں سے ان کی ذات کے معاملہ میں مشورہ کرلیا کرو یہ لڑکی کنواری تھی ابن نحام کہنے لگے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر والے اس نکاح کو اس لیے برا جانتے ہیں کہ اس لڑکے کے پاس مال نہیں ہے پس اس لڑکے کے لیے میرا مال اسی طرح جیسے ان کو ابن عمر (رض) نے دینا تھا۔ معترضین کہتے ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس روایت میں والد کے نکاح کو لڑکی کے ناپسند کرنے کے باوجود جائز قرار دیا حالانکہ وہ لڑکی کنواری تھی اور والد کے ساتھ عقد نکاح میں اس کو کوئی حق نہیں دیا گیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ اصل اختیار والد ہی کو ہے۔ اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو جس طرح کہ نقل کی گئی ہے تو یہ بات اسی طرح ہوگی جبکہ اس کی سند میں عبداللہ ابن لہیعہ ہے جو کہ کمزور راوی ہے جبکہ اس کے بالمقابل لیث بن سعد نے اس روایت کو اس کے خلاف نقل کیا ہے روایت ملاحظہ ہو۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٩٧۔