hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7218

.

الطحاوي

7218
Al Tahawi
۷۲۱۵ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرٍ الرَّقِّیُّ ، قَالَ : ثَنَا أَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْد عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ رَبِیْعَۃُ بْنُ یَزِیْدَ ، عَنْ أَبِیْ کَبْشَۃَ السَّلُوْلِیِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ سَہْلُ بْنُ الْحَنْظَلِیَّۃِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی ، فَاِنَّمَا یَسْتَکْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَہَنَّمَ .قُلْتُ :یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَمَا ظَہْرُ غِنًی؟ قَالَ أَنْ یَعْلَمَ أَنَّ عِنْدَ أَہْلِہٖ مَا یُغَدِّیہِمْ وَمَا یُعَشِّیہِمْ۔
٧٢١٥: ابو کبشہ سلولی نے سہل بن حنظلیہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا جس آدمی نے مالداری کے باوجود لوگوں سے سوال کیا وہ اپنے پاس جہنم کے انگارے زیادہ کررہا ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ظہر غنیٰ کیا ہے آپ نے فرمایا اس کے گھر والوں کے ہاں صبح و شام کا کھانا ہو۔
تخریج : ابو داؤد فی الزکوۃ باب ٢٤‘ مسند احمد ٤؍١٨١۔
خلاصہ الزام :
فریق اوّل : صبح و شام کے کھانے کا جو مالک ہو اس پر صدقہ حرام ہے اور اس کو سوال درست نہیں۔
فریق ثانی کا قول یہ ہے : اگر کوئی ایک اوقیہ چاندی (٤٠ درہم کے برابر) کا مالک ہو تو اس پر صدقہ حرام ہے اور اس کو سوال کرنا جائز نہیں ہے۔
فریق ثالث : پچاس درہم کے مالک پر صدقہ حرام ہے۔
فریق رابع : دو سو درہم کے مالک پر صدقہ وسوال حرام ہیں یہ ائمہ احناف کا قول ہے۔
فریق اوّل کی مستدلات :