۷۲۱۶ : حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ یَزِیْدَ بْنِ جَابِرٍ ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ بِاِسْنَادِہٖ۔ قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ مَنْ مَلَکَ ہٰذَا الْمِقْدَارَ ، حُرِّمَتْ عَلَیْہِ الصَّدَقَۃُ ، وَلَمْ تَحِلَّ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ، بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : مَنْ مَلَکَ أُوْقِیَّۃً مِنَ الْوَرِقِ ، وَہِیَ أَرْبَعُوْنَ دِرْہَمًا ، أَوْ عِدْلَہَا مِنَ الذَّہَبِ حُرِّمَتْ عَلَیْہِ الصَّدَقَۃُ ، وَلَمْ تَحِلَّ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ ، وَمَنْ مَلَکَ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ ، لَمْ تُحَرَّمْ عَلَیْہِ الصَّدَقَۃُ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٧٢١٦: عبدالرحمن بن یزید نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے پھر اسی طرح ان کی اسناد والی روایت کی گئی ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ جو اتنی مقدار یعنی صبح و شام کے کھانے کا مالک ہوگا اس پر صدقہ حرام ہے اور اس کو سوال درست نہیں اور انھوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ جو شخص ایک اوقیہ چاندی کا مالک ہو کہ جس کی مقدار چالیس درہم ہے یا اس کے برابر سونا ہو تو اس پر صدقہ حرام ہے اور اس کو سوال جائز نہیں اور جو اس سے کم کا مالک ہو اس پر صدقہ حرام نہیں ہے انھوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے۔