۷۲۳۰ : مَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْمَاعِیْلَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ مُوْسَیْ بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، کَانَ یَأْخُذُ عَلَی ھٰذَا الْکِتَابِ ، فَذَکَرَ فَرَائِضَ الْاِبِلِ .وَفِیْہَا ذِکْرٌ مِنْہَا أَنَّ مَا زَادَ عَلٰی عِشْرِیْنَ وَمِائَۃٍ ، فَفِیْ کُلِّ أَرْبَعِیْنَ بِنْتُ لَبُوْنٍ ، وَفِیْ کُلِّ خَمْسِیْنَ حِقَّۃٌ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : مَا زَادَ عَلَی الْعِشْرِیْنَ وَالْمِائَۃِ مِنَ الْاِبِلِ اُسْتُؤْنِفَتْ فِیْہِ الْفَرِیْضَۃُ .فَکَانَ فِیْ کُلِّ خَمْسٍ مِنْہَا شَاۃٌ ، حَتّٰی تَتَنَاہَی الزِّیَادَۃُ اِلَی خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ ، فَیَکُوْنُ فِیْہَا بِنْتُ مَخَاضٍ اِلَی تِسْعٍ وَأَرْبَعِیْنَ وَمِائَۃٍ .فَاِذَا کَانَتْ خَمْسِیْنَ وَمِائَۃً ، فَفِیْہَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ ، ثُمَّ کَذٰلِکَ الزِّیَادَۃُ ، مَا کَانَ دُوْنَ الْخَمْسِیْنَ ، فَفِیْہَا فَرَائِضُ مُسْتَأْنَفَاتٌ عَلٰی حُکْمِ أَوَّلِ فَرَائِضِ الْاِبِلِ ، فَاِذَا کَمُلَتْ خَمْسِیْنَ ، فَفِیْہَا حِقَّۃٌ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ مِنَ الْآثَارِ۔
٧٢٣٠: نافع نے ابن عمر (رض) سے انھوں نے حضرت عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ وہ اس خط پر عمل کرتے تھے پھر اس میں اونٹوں کی زکوۃ کا ذکر کیا گیا ہے جن میں یہ بات بھی ہے جب اونٹوں کی تعداد ایک سو بیس سے بڑھ جائے تو ہر چالیس میں بنت لبون اور پچاس میں حقہ ہوگا۔ فریق ثالث : جب اونٹوں کی تعداد ایک سو بیس سے زیادہ ہو تو پھر فریضہ نئے سرے سے لوٹایا جائے گا پس ہر پانچ میں ایک بکری ہوگی یہاں تک کہ اضافے کی مقدار پچیس تک پہنچ جائے تو اس میں ایک بنت مخاض لازم ہوگا اور یہ اسی طرح ایک سو انچاس تک چلیں پھر جب ان کی تعداد ایک سو پچاس ہوجائے گی تو اس میں تین حقے ہوں گے پھر اضافے کا یہی حکم ہوگا جب تک وہ پچاس سے کم ہو ان میں فرائض دوبارہ لوٹائے جاتے رہیں گے اونٹوں کے پہلے فرائض کی طرح (یعنی پانچ میں بکری وغیرہ) جب پچاس مکمل ہوجائیں گے تو اس میں ایک حقہ ہوگا انھوں نے ان آثار کو دلیل بنایا۔