hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7255

.

الطحاوي

7255
Al Tahawi
۷۲۵۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبِیْ، عَنْ ثُمَامَۃَ قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : کَانَتْ لِأَبِیْ طَلْحَۃَ أَرْضٌ ، فَجَعَلَہَا لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ .فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہٗ : اجْعَلْہَا فِیْ فُقَرَائِ قَرَابَتِک فَجَعَلَہَا لِحَسَّانٍ وَأُبَیُّ .قَالَ أَبِیْ عَنْ ثُمَامَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : فَکَانَا أَقْرَبَ اِلَیْہِ مِنِّیْ۔ فَہٰذَا أَبُو طَلْحَۃَ ، قَدْ جَعَلَہَا لِأُبَیِّ وَحَسَّانَ ، وَاِنَّمَا یَلْتَقِیْ ھُوَ وَأُبَیُّ ، عِنْدَ أَبِیْہَ السَّابِعِ ؛ لِأَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ ، اسْمُہٗ زَیْدُ بْنُ سَہْلِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ حَرَامِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَیْدِ مَنَاۃَ ، بْنِ عَدِیِّ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِکٍ بْنِ النَّجَّارِ .وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبِ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَتِیْکِ بْنِ زَیْدِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَوْنِ بْنِ مَالِکِ بْنِ النَّجَّارِ .فَلَمْ یُنْکِرْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی أَبِیْ طَلْحَۃَ ، مَا فَعَلَ مِنْ ذٰلِکَ .فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَا ، عَلٰی أَنَّ مَنْ کَانَ یَلْقَی الرَّجُلَ اِلٰی أَبِیْہَ الْخَامِسِ ، أَوْ السَّادِسِ ، أَوْ اِلٰی مَنْ فَوْقَ ذٰلِکَ مِنَ الْآبَائِ الْمَعْرُوْفِیْنَ قَرَابَۃً لَہٗ، کَمَا أَنَّ مَنْ یَلْقَاہٗ، اِلٰی أَبٍ دُوْنَہُ قَرَابَۃٌ أَیْضًا .وَقَدْ أَمَرَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِیَّہُ أَیْضًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنْ یُنْذِرَ عَشِیْرَتَہُ الْأَقْرَبِیْنَ .فَرُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ۔
٧٢٥٢: ثمامہ کہتے ہیں کہ حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ حضرت ابو طلحہ (رض) کی ایک زمین تھی انھوں نے وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر مقرر کردی وہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور گزارش کی تو آپ نے فرمایا اس کو اپنے قرابت دار فقراء پر تقسیم کر دو ۔ تو انھوں نے وہ باغ حضرت حسان اور ابی (رض) میں تقسیم کردیا۔ راوی محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد عبداللہ ثمامہ عن انس (رض) سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ دونوں مجھ سے زیادہ قریب تھے۔ تو یہ ابو طلحہ (رض) نے اپنا باغ حضرت ابی اور حسان (رض) کو دیا حالانکہ ان کا سلسلہ نسب ابو طلحہ سے ساتویں پشت میں ملتا ہے ملاحظہ ہو۔ ابو طلحہ زیدبن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن نجار ابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عون بن مالک بن نجار تو نجار میں دونوں کا سلسلہ جمع ہوتا ہے جو کہ ساتویں پشت ہے مگر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار نہیں فرمایا بلکہ برقرار فرمایا۔ پس اس سے ثابت ہوگیا کہ جو پانچویں ‘ چھٹے یا ساتویں یا اوپر تک آباء معروفین میں ملے وہ اس کی قرابت شمار ہوگی جس طرح کہ اس سے نیچے والوں میں قرابت ہے۔ ": اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے قریبی خاندان کو ڈرائیں۔ جیسا کہ اس روایت میں ہے۔