۷۲۵۸ : مَا حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبِیْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَک الْأَقْرَبِیْنَ صَعِدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الصَّفَّا فَجَعَلَ یُنَادِیْ یَا بَنِیْ فِہْرٍ ، یَا بَنِیْ عَدِیْ ، یَا بَنِیْ فُلَانٍ لِبُطُوْنٍ مِنْ قُرَیْشٍ ، حَتّٰی اجْتَمَعُوْا .فَجَعَلَ الرَّجُلُ اِذَا لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یَخْرُجَ أَرْسَلَ رَسُوْلًا لِیَنْظُرَ ، وَجَائَ أَبُو لَہَبٍ وَقُرَیْشٌ ، فَاجْتَمَعُوْا .فَقَالَ : أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّ خَیْلًا بِالْوَادِی تُرِیْدُ أَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ ، أَکُنْتُمْ تُصَدِّقُوْنِیْ. قَالُوْا : نَعَمْ ، مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ اِلَّا صِدْقًا .قَالَ : فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَکُمْ ، بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٌ شَدِیدٌ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ دَعَا بُطُوْنَ قُرَیْشٍ کُلَّہَا .وَقَدْ رُوِیَ مِثْلُ ذٰلِکَ ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ .
٧٢٥٨: سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ اتری تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفا پر چڑھے اور اس طرح آواز دینے لگے۔ اے بنی فہر ‘ اے بنی عدی ‘ اے بنی فلاں تمام بطون قریش کو بلایا یہاں تک کہ وہ اکٹھے ہوگئے۔ تو آدمیوں کا یہ حال ہوگیا کہ جو خود نہیں آسکتا تھا وہ اپنا نمائندہ بھیجنے لگا تاکہ وہ دیکھے کہ کیا معاملہ پیش آیا ہے۔ اور ابو لہب اور تمام خاندان قریش جمع ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں اطلاع دوں کہ ایک گھڑ سوار دستہ وادی میں تم پر شبخون مارنے کو تیار کھڑا ہے کیا تم میری اس بات کو سچ جانو گے۔ ؟ انھوں نے کہا جی ہاں۔ ہم نے اب تک آپ کے متعلق سچ کا تجربہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا میں تمہارے لیے سخت عذاب سے پہلے نذیر بن کر آیا ہوں۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی ساتویں پشت کے دادا کی اولاد کو شامل فرمایا اور وہ کعب بن لوی ہیں اور یہ بھی روایت وارد ہے۔
تخریج : بخاری فی تفسیر سورة ٢٦‘ فی الترجمہ والوصایا باب ١٠‘ مسند احمد ١؍٣٠٧۔