۷۲۵۷ : مَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ ، وَعَفَّانُ ، عَنْ أَبِیْ عَوَانَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ مُوْسَیْ بْنِ طَلْحَۃَ ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَک الْأَقْرَبِیْنَ قَامَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : یَا بَنِیْ کَعْبِ بْنِ لُؤَی أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِیْ عَبْدِ مُنَافٍ أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِیْ ہَاشِمٍ ، أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، أَنْقِذِیْ نَفْسَک مِنَ النَّارِ ، فَاِنِّیْ لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ، غَیْرَ أَنَّ لَکُمْ رَحِمًا ، سَأَبُلُّہَا بِبِلَالِہَا فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ دَعَاہُمْ مَعَہُمْ ، بَنِیْ أَبِیْہَ السَّابِعِ ؛ لِأَنَّہٗ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ ہَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مُنَافٍ بْنِ قُصَیِّ بْنِ کِلَابِ بْنِ مُرَّۃَ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَی .وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ۔
٧٢٥٧: موسیٰ بن طلحہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جب آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ (الشعرائ ٢١٤) نازل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ بنی کعب بن لوی تم اپنے کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنی عبد مناف تم اپنے آپ کو بچاؤ۔ اے بنی ہاشم تم اپنے کو آگے سے بچاؤ۔ اے فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اپنے آپ کو آگے سے بچا ‘ میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچانے کے لیے کچھ کام نہ آؤں۔ البتہ تمہاری میرے ساتھ رحم کی رشتہ داری ہے اس کی تری سے میں تمہیں تر کروں گا (یعنی رحم کی وجہ سے جو حق بنتا ہے اس سے انکار نہیں) اس روایت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی کعب جو کہ ساتویں پشت ہے ان کو بھی بلایا اور ان کو قرابت میں شامل فرمایا۔ اس سلسلہ میں یہ بھی روایت وارد ہے (ملاحظہ ہو)
تخریج : بخاری فی الادب باب ١٤‘ مسلم فی الایمان ٣٤٨‘ ترمذی فی تفسیر سورة ٢٦‘ باب ٢‘ نسائی فی الوصایا باب ٦‘ مسند احمد ٢‘ ٣٣٣؍٣٦٠۔