۷۲۷۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ قَالَ : سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ یَزِیْدَ یَقُوْلُ : قَضٰی فِیْنَا مُعَاذُ بِالْیَمَنِ ، فِیْ رَجُلٍ تَرَکَ ابْنَتَہٗ وَأُخْتَہٗ، فَأَعْطَی الْاِبْنَۃَ ، النِّصْفَ ، وَأَعْطَی الْأُخْتَ النِّصْفَ . قَالَ شُعْبَۃُ : وَأَخْبَرَنِی الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ اِبْرَاھِیْمَ ، یُحَدِّثُ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : قَضٰی فِیْنَا مُعَاذٌ بِالْیَمَنِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیٌّ ، مِثْلَہٗ۔
٧٢٧٤: اسود بن یزید کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں حضرت معاذ (رض) نے یمن میں ایک ایسے شخص کی وراثت کا فیصلہ فرمایا جس نے بیٹی اور بہن پیچھے چھوڑی تو آپ نے نصف بیٹی اور نصف بہن کو دیا۔ شعبہ کہتے ہیں کہ اسود نے بیان کیا کہ ہمارے ہاں حضرت معاذ (رض) نے یمن میں اسی طرح فیصلہ کیا جبکہ ابھی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا میں زندہ تھے۔