۷۲۸ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ، عَنْ دَاوٗدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّہٗ قَالَ : (سَأَلَتِ الْجِنُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ آخِرِ لَیْلَۃٍ لَقِیَہُمْ فِیْ بَعْضِ شِعَابِ مَکَّۃَ، الزَّادَ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلُّ عَظْمٍ یَقَعُ فِیْ أَیْدِیکُمْ، قَدْ ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، أَوْفَرُ مَا یَکُوْنُ لَحْمًا، وَالْبَعْرُ یَکُوْنُ عَلَفًا لِدَوَابِّکُمْ فَقَالَ : إِنَّ بَنِیْ آدَمَ یُنَجِّسُوْنَہُ عَلَیْنَا فَعِنْدَ ذٰلِکَ قَالَ لَا تَسْتَنْجُوْا بِرَوْثِ دَابَّۃٍ وَلَا بِعَظْمٍ، إِنَّہٗ زَادُ إِخْوَانِکُمْ مِنَ الْجِنِّ) .
٧٢٨: علقمہ نے ابن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ جنات نے (اسلام لانے کے بعد) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی رات کے آخری حصہ میں جبکہ آپ مکہ کی کسی گھاٹی میں ان سے ملے تو اپنے لیے زاد کا سوال کیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر وہ ہڈی جو تمہارے ہاتھ آئے گی اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہوگا تو اس پر پہلے سے بڑھ کر گوشت پیدا کردیا جائے گا اور مینگنی پر تمہارے جو پایوں کا چارا اگا دیا جائے گا انھوں نے شکایت کی کہ اولاد آدم اس کو پلید کر کے ہمارے استعمال کے قابل نہیں رہنے دیتے اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے مسلمانو ! تم گوبر سے استنجاء نہ کرو اور نہ ہڈی سے اس لیے کہ یہ تمہارے جن بھائیوں کا کھانا ہے۔
تخریج : سابقہ تخریج ملاحظہ ہو۔