hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 729

.

الطحاوي

729
Al Tahawi
۷۲۹ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیْزِیُّ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ ڑ الْأَزْرَقِیُّ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ جَدِّہِ، عَنْ (أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : اتَّبَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ فِیْ حَاجَۃٍ لَہٗ وَکَانَ لَا یَلْتَفِتُ فَدَنَوْتُ مِنْہُ، فَاسْتَأْنَسْتُ وَتَنَحْنَحْت .فَقَالَ : مَنْ ھٰذَا؟ فَقُلْتُ : أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ فَقَالَ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ابْغِنِیْ أَحْجَارًا أَسْتَطِیْبُ بِہِنَّ وَلَا تَأْتِنِیْ بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثٍ قَالَ : فَأَتَیْتَہٗ بِأَحْجَارٍ أَحْمِلُہَا فِیْ مَلَاۃٍ فَوَضَعْتُہَا إِلٰی جَنْبِہٖ، ثُمَّ أَعْرَضْتُ عَنْہٗ .فَلَمَّا قَضٰی حَاجَتَہُ اتَّبَعْتُہٗ فَسَأَلْتُہٗ عَنِ الْأَحْجَارِ وَالْعَظْمِ وَالرَّوْثَۃِ فَقَالَ : إِنَّہٗ جَائَ نِیْ وَفْدُ نَصِیْبِیْنَ مِنَ الْجِنِّ - وَنِعْمَ الْجِنُّ ہُمْ - فَسَأَلُوْنِی الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللّٰہَ لَہُمْ أَنْ لَا یَمُرُّوْا بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثٍ إِلَّا وَجَدُوْا عَلَیْہِ طَعَامًا) .
٧٢٩: احمد بن محمد الازرقی کہتے ہیں ہمیں عمرو بن یحییٰ بن سعید نے اپنے دادا سعید سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے پیچھے چل دیا جبکہ آپ قضائے حاجت کے لیے نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے (بلکہ سیدھے چلتے جاتے تھے) میں نے چاہا کہ میری پہچان ہوجائے میں نے بتکلف کھانسا۔ تو آپ نے توجہ کرتے ہوئے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا حضرت ابوہریرہ (رض) ہوں آپ نے فرمایا اے حضرت ابوہریرہ (رض) میرے لیے پتھر تلاش کر کے لاؤ تاکہ ان سے میں استنجاء کروں میرے پاس ہڈی اور گوبر مت لانا۔ چنانچہ میں آپ کے پاس پتھر لایا جن کو میں بھر کر اٹھا لایا اور آپ کے پہلو میں رکھ کر پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک طرف ہٹ گیا جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوچکے تو میں آپ کے پیچھے پیچھے چل دیا اور میں نے پتھروں ‘ ہڈی اور گوبر کے متعلق سوال کیا (کہ پتھر سے استنجاء جائز اور ان دونوں سے کیوں کر ممنوع ہے) آپ نے فرمایا نصیبین کے جنات کا ایک وفد میرے پاس آیا اور وہ بہت اچھے جنات تھے اور انھوں نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ ہمیں زاد راہ مہیا کیا جائے تو میں نے جناب باری میں دعا کی کہ ان کا گزر جس گوبر اور ہڈی پر ہو اس پر ان کا (اور ان کے چوپایوں) کا کھانا مہیا کردیا جائے۔
تخریج : بخاری فی الطھارۃ باب ٢٠۔