hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7296

.

الطحاوي

7296
Al Tahawi
۷۲۹۳ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّہٗ سَمِعَ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِ یَکْرِبَ ، یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ مَوْلٰی مَنْ لَا مَوْلٰی لَہٗ، یَرِثُ مَالَہٗ، وَیَفُکُّ عَنْوَہٗ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہٗ، یَرِثُ مَالَہٗ وَیَفُکُّ عَنْوَہٗ۔فَہٰذِہِ آثَارٌ مُتَّصِلَۃٌ ، قَدْ تَوَاتَرَتْ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بِمَا یُوَافِقُ مَا رَوَی الْوَاسِعُ بْنُ حِبَّانَ ، وَیُخَالِفُ مَا رَوٰی عَطَائُ بْنُ یَسَارٍ .وَقَدْ شَذَّ ذٰلِکَ کُلُّہُ وَبَیَّنَہُ قَوْلُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ : وَأُوْلُوْا الْأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ۔فَقَالَ الْمُخَالِفُ لَنَا : لَا دَلِیْلَ لَکُمْ فِیْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ ، عَلٰی مَا ذَہَبْتُمْ اِلَیْہِ مِنْ ہٰذَا ؛ لِأَنَّ النَّاسَ کَانُوْا یَتَوَارَثُوْنَ بِالتَّبَنِّیْ ، کَمَا تَبَنَّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ ، فَکَانَ زَیْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَکَانَ مَنْ فَعَلَ ہٰذَا وَرِثَ الْمُتَبَنِّیْ مَالَہٗ، دُوْنَ سَائِرِ أَرْحَامِہِ، وَکَانَ النَّاسُ یَتَعَاقَدُوْنَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ عَلٰی أَنَّ الرَّجُلَ یَرِثُ الرَّجُلَ ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وَأُوْلُوْا الْأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ دَفْعًا لِذٰلِکَ ، وَرَدًّا لِلْمَوَارِیْثِ اِلَی ذٰوِی الْأَرْحَامِ ، وَقَالَ : اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ۔وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٧٢٩٣: راشد بن سعد نے مقدام بن معدیکرب (رض) کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بیان کرتے سنا کہ انھوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول اس کا مولیٰ ہے جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو (یہاں مولیٰ سے وارث مراد ہے اس کا مطلب اس کے مال کا بیت المال میں جمع ہونا ہے) وہ اس کے مال کے وارث ہوں گے اور اس کی گردن چھڑائیں گے۔ اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو وہ اس کے مال کا وارث ہوگا اور اس کی گردن کو چھڑائے گا۔ یہ آثار متواتر و متصل روایت کے ساتھ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہیں یہ تمام واسع بن حبان کی روایت کی موافقت کر رہے ہیں اور عطاء بن یسار کی روایت کے مضمون کے خلاف ہیں۔ ان روایات نے اس آیت ” واولوالارحام بعضہم اولی ببعض “ (الانفال : ٧٥) کے مضمون کی وضاحت و تاکید کردی۔ اس آیت واولوا الارحام الایۃ میں تمہارے مؤقف کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ لوگ اس زمانہ میں متبنیٰ ہونے کی وجہ سے بھی وارث ہوتے تھے جیسا کہ حضرت زید بن حارثہ (رض) کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متبنیٰ بنایا۔ چنانچہ جو شخص متبنیٰ بناتا وہ اس کے مال کا بھی وارث ہوتا ذی الارحام مال کے وارث نہ بنتے گو زمانہ جاہلیت میں اس طرح بھی معاہدہ کرتے ایک آدمی دوسرے آدمی کا وارث بنے گا تو اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلے میں یہ آیت اتاری : ” واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض۔۔۔“ تاکہ یہ رشم ختم ہوجائے اور میراث ذی الارحام کی طرف لوٹ آئے اور متبنیٰ کے بارے میں فرما دیا ” ادعوہم لآباہ م “ کہ ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف کرو اسی طرح روایات میں وارد ہے روایت یہ ہے۔
حاصل : یہ آثار متواتر و متصل روایت کے ساتھ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہیں یہ تمام واسع بن حبان کی روایت کی موافقت کر رہے ہیں اور عطاء بن یسار کی روایت کے مضمون کے خلاف ہیں۔ ان روایات نے اس آیت ” واولوالارحام بعضہم اولی ببعض “ (الانفال : ٧٥) کے مضمون کی وضاحت و تاکید کردی۔
فریق اوّل کی طرف سے ایک اعتراض :
اس آیت واولوا الارحام الایۃ میں تمہارے مؤقف کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ لوگ اس زمانہ میں متبنیٰ ہونے کی وجہ سے بھی وارث ہوتے تھے جیسا کہ حضرت زید بن حارثہ (رض) کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متبنیٰ بنایا۔ چنانچہ جو شخص متبنیٰ بناتا وہ اس کے مال کا بھی وارث ہوتا ذی الارحام مال کے وارث نہ بنتے گو زمانہ جاہلیت میں اس طرح بھی معاہدہ کرتے ایک آدمی دوسرے آدمی کا وارث بنے گا تو اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلے میں یہ آیت اتاری : ” واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض۔۔۔“ تاکہ یہ رشم ختم ہوجائے اور میراث ذی الارحام کی طرف لوٹ آئے اور متبنیٰ کے بارے میں فرما دیا ” ادعوہم لآباہ م “ کہ ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف کرو اسی طرح روایات میں وارد ہے روایت یہ ہے۔