hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7297

.

الطحاوي

7297
Al Tahawi
۷۲۹۴ : مَا حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عِیْسَیْ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : کَانَ لِأَخِی شُرَیْحِ بْنِ الْحَارِثِ جَارِیَۃٌ ، فَوَلَدَتْ جَارِیَۃً ، فَشَبَّتْ فَزَوَّجَہَا ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، وَمَاتَتِ الْجَدَّۃُ .فَاخْتَصَمَ شُرَیْحٌ وَالْغُلَامُ اِلَی شُرَیْحٍ قَالَ : فَجَعَلَ شُرَیْحٌ یَقُوْلُ: لَیْسَ لَہٗ مِیْرَاثٌ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی ، اِنَّمَا ہُوَ ابْنُ بِنْتٍ ، وَقَضٰی لِلْغُلَامِ بِالْمِیْرَاثِ ، قَالَ : وَأُوْلُوْا الْأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ : قَالَ : فَرَکِبَ مَیْسَرَۃُ بْنُ زَیْدٍ اِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، فَحَدَّثَہٗ بِاَلَّذِیْ قَضٰی بِہٖ شُرَیْحٌ .قَالَ : فَکَتَبَ ابْنُ الزُّبَیْرِ اِلَی شُرَیْحٍ : أَنَّ مَیْسَرَۃَ حَدَّثَنِیْ أَنَّک قَضٰیْتُ کَذَا ، وَقُلْت عِنْدَ ذٰلِکَ وَأُوْلُوْا الْأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی فَاِنَّمَا کَانَتْ تِلْکَ الْآیَاتُ فِی الْعَصَبَاتِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، وَکَانَ الرَّجُلُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، یُعَاقِدُ الرَّجُلَ ، فَیَقُوْلُ : تَرِثُنِیْ وَأَرِثُک فَلَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ ، تَرَکَ ذٰلِکَ .قَالَ : فَقَدَّمَ الْکِتَابَ اِلَی شُرَیْحٍ فَقَرَأَہٗ وَقَالَ اِنَّمَا أَعْتَقَہَا حِیْتَانُ بَطْنِہَا ، وَأَبَی أَنْ یَرْجِعَ عَنْ قَضَائِہٖ۔ وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لِلْآخَرِیْنَ عَلٰی أَہْلِ ہٰذِہِ الْمَقَالَۃِ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ قَدْ أَخْبَرَ فِیْ حَدِیْثِہِ ہٰذَا، أَنَّہُمْ کَانُوْا یَتَوَارَثُوْنَ بِالتَّعَاقُدِ دُوْنَ الْأَنْسَابِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ، رَدًّا لِذٰلِکَ وَأُوْلُوْا الْأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ۔فَکَانَ فِیْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ ، دَفْعُ الْمِیْرَاثِ بِالْعَاقِدَۃِ ، وَاِیجَابُہُ لِذَوِی الْأَرْحَامِ دُوْنَہُمْ .وَلَمْ یُبَیِّنْ لَنَا فِیْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ أَنَّ ذَوِی الْأَرْحَامِ ، ہُمُ الْعَصَبَۃُ أَوْ غَیْرُہُمْ .فَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنُوْا ہُمُ الْعَصَبَۃُ ، وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ کُلُّ ذِیْ رَحِمٍ ، عَلٰی مَا جَائَ فِیْ تَفْصِیلِ الْمَوَارِیْثِ ، فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .فَلَمَّا کَانَ مَا ذَکَرْنَا کَذٰلِکَ ، ثَبَتَ أَنْ لَا حُجَّۃَ لِأَحَدِ الْفَرِیْقَیْنِ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، وَاِنَّمَا ہٰذَا الْحَدِیْثُ حُجَّۃٌ عَلٰی ذٰاہِبٍ ، لَوْ ذَہَبَ اِلٰی مِیْرَاثِ الْمُتَعَاقِدَیْنِ ، بَعْضُہُمْ مِنْ بَعْضٍ ، لَا غَیْرَ ذٰلِکَ ، فَہٰذَا مَعْنَیْ حَدِیْثِ ابْنِ الزُّبَیْرِ .وَقَدْ ذَہَبَ أَہْلُ بَدْرٍ اِلٰی مَوَارِیْثِ ذَوِی الْأَرْحَامِ ، فَمَا رُوِیَ عَنْہُمْ فِیْ ذٰلِکَ ، مَا ذَکَرْنَاہُ فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ کِتَابِنَا ہٰذَا، عَنْ عُمَرَ فِیْ کِتَابِہٖ اِلٰی أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجِرَاحِ .فَلَمْ یَذْکُرْ أَبُو عُبَیْدَۃَ ذٰلِکَ عَلَیْہٖ، فَدَلَّ أَنَّ مَذْہَبَہٗ فِیْہٖ، کَانَ کَمَذْہَبِہٖ .
٧٢٩٤: عیسیٰ بن حارث کہتے ہیں کہ میرے بھائی شریح بن حارث کی ایک لونڈی تھی اس نے ایک بیٹی جنی۔ انھوں نے اس کا نکاح کردیا اس سے ایک لڑکا پیدا ہوا اور دادی مرگئی چنانچہ شریح کے بھائی اور وہ لڑکا اپنا مقدمہ قاضی شریح کے پاس لے آئے حضرت شریح کہنے لگے کہ قرآن مجید میں اس کے لیے میراث نہیں ہے کیونکہ وہ مرنے والی کو نواسہ ہے اور غلام کے لیے قاضی شریح نے میراث کا فیصلہ کیا اور دلیل یہ دی ” واولوالارحام “ الایۃ چنانچہ میسرہ بن زید حضرت ابن زبیر کی خدمت میں گئے اور شریح کے فیصلے کی اطلاع دی راوی کہتے ہیں کہ ابن زبیر نے قاضی شریح کو لکھا کہ مجھے میسرہ نے بتایا ہے کہ تم نے یہ فیصلہ کیا اور دلیل میں یہ آیت پڑھی : ” واولوا الارحام بعضہم۔۔۔“ یہ آیات تو جاہلیت میں جو عصبات بنتے تھے ان کے بارے میں اتری کہ آدمی جاہلیت میں دوسرے آدمی کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے کہتا تو میرا وارث میں تیرا وارث جب یہ آیت اتری تو اس قسم کے معاہدے ختم کردیئے میسرہ نے وہ خط شریح کو آ کردیا شریح نے اس کو پڑھا اور اس کے بارے میں یہ کہا کہ اس کے پیٹ کی دو مچھلیوں نے اپنے پیٹ سے اس کو آزاد کیا ہے اور اپنے فیصلے سے رجوع کرنے سے انکار کردیا۔ اور دوسروں کی ان قول والوں کے خلاف دلیل یہ ہے ‘ اس روایت میں جو عبداللہ ابن زبیر نے بیان کی اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں وہ لوگ باہمی معاہدے کے ذریعے وارث بنتے تھے نہ کہ نسب سے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں یہ آیت اتاری : ” واولوا الارحام بعضہم۔۔۔“ تو آیت میں معاہدے والی میراث کو رد کر کے ذی الارحام کے لیے اس کو لازم کردیا گیا ہے البتہ آیت میں یہ وضاحت نہیں کہ ذوی الارحام وہی عصبہ ہیں یا ان کے علاوہ عصبہ ہیں پس اس میں یہ دونوں احتمال ہیں کہ وہی عصبہ ہوں اور یہ بھی احتمال ہے ہر ذی رحم مراد ہو جیسا کہ دیگر روایات میں میراث کی تفصیل میں وارد ہوا جب یہ بات اسی طرح ہے تو اس سے یہ بات خودبخود ثابت ہوگئی کہ اس روایت میں فریقین میں سے کسی کی بھی دلیل نہیں البتہ اس حدیث میں ان لوگوں کے خلاف حجت ضرور ہے جو معاہدات کی وجہ سے میراث کا حق مانتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے ہیں اس کے علاوہ نہیں یہ عبداللہ ابن زیبر کی روایت کا مفہوم ہے اور اہل بدر ذی الارحام کی میراث کو مانتے ہیں ان میں ایک روایت تو وہ ہے جو اسی کتاب میں ہم ذکر کر آئے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوعبیدہ (رض) کی طرف خط لکھا اور حضرت ابوعبیدہ (رض) نے ان کے بارے میں تنقید نہیں کی اس سے ثابت ہوا کہ ان کا مذہب بھی اس سلسلے میں وہی تھا (روایت یہ ہے) ۔
الجواب : اس روایت میں جو عبداللہ ابن زبیر نے بیان کی اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں وہ لوگ باہمی معاہدے کے ذریعے وارث بنتے تھے نہ کہ نسب سے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں یہ آیت اتاری : ” واولوا الارحام بعضہم۔۔۔“ تو آیت میں معاہدے والی میراث کو رد کر کے ذی الارحام کے لیے اس کو لازم کردیا گیا ہے البتہ آیت میں یہ وضاحت نہیں کہ ذوی الارحام وہی عصبہ ہیں یا ان کے علاوہ عصبہ ہیں پس اس میں یہ دونوں احتمال ہیں کہ وہی عصبہ ہوں۔
!: اور یہ بھی احتمال ہے ہر ذی رحم مراد ہو جیسا کہ دیگر روایات میں میراث کی تفصیل میں وارد ہوا جب یہ بات اسی طرح ہے تو اس سے یہ بات خودبخود ثابت ہوگئی کہ اس روایت میں فریقین میں سے کسی کی بھی دلیل نہیں البتہ اس حدیث میں ان لوگوں کے خلاف حجت ضرور ہے جو معاہدات کی وجہ سے میراث کا حق مانتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے ہیں اس کے علاوہ نہیں یہ عبداللہ ابن زیبر کی روایت کا مفہوم ہے۔
اہلِ بدر سے ذوی الارحام کی میراث کا ثبوت :
ان میں ایک روایت تو وہ ہے جو اسی کتاب میں ہم ذکر کر آئے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوعبیدہ (رض) کی طرف خط لکھا اور حضرت ابو عبیدہ (رض) نے ان کے بارے میں تنقید نہیں کی اس سے ثابت ہوا کہ ان کا مذہب بھی اس سلسلے میں وہی تھا (روایت یہ ہے)