hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 731

.

الطحاوي

731
Al Tahawi
۷۳۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ، ح : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَۃَ، (عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ کَانَ یَنَامُ وَہُوَ جُنُبٌ وَلَا یَمَسُّ الْمَائَ) .
٧٣١: اسود نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنابت کی حالت میں سو رہتے اور پانی کو بالکل نہ چھوتے۔
تخریج : ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٨٩‘ نمبر ٢٢٨‘ ترمذی فی الطھارۃ باب ٧٨‘ نمبر ١١٧؍١١٨۔
خلاصہ الزام : اس میں تین مسائل ذکر کئے ہیں : ! حالت جنابت میں سونا ‘ " کھانا پینا ‘ #جماع کرنا۔
مسئلہ اوّل : اس میں امام یوسف و سعید بن المسیب (رح) وغیرہ حالت جنابت میں وضو کا کوئی فائدہ نہیں مانتے۔ نمبردو ائمہ اربعہ اور امام محمد جمہور فقہاء و محدثین جنابت والے کے وضو کو مستحب مانتے ہیں۔
مسئلہ دوم : کھانے پینے کے لیے وضو واجب ہے یہ ظاہر یہ کا مذہب ہے۔ نمبر ٢: وضو مستحب ہے یہ ابوحنیفہ ‘ حسن بصری ‘ شافعی (رح) کا مذہب ہے۔
مسئلہ سوم : دوبارہ جماع کے لیے وضو واجب ہے یہ حسن بصری ‘ ابن سیرین ‘ عکرمہ (رح) کا قول ہے۔ نمبر ٢: ائمہ اربعہ و جمہور فقہاء کے ہاں وضو واجب نہیں بطور نظافت مستحب ہے۔
مسئلہ نمبر ١ فریق اوّل کا مؤقف حالت جنابت میں وضو کا فائدہ نہیں :