۷۳۰ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ ثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیٰی؛ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَثَبَتَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نَہٰی عَنْ الْاِسْتِنْجَائِ بِالْعِظَامِ لِمَکَانِ الْجِنِّ لَا لِأَنَّہَا لَا تُطَہِّرُ کَمَا یُطَہِّرُ الْحَجَرُ .وَجَمِیْعُ مَا ذَہَبْنَا إِلَیْہِ مِنَ الْاِسْتِنْجَائِ بِالْعِظَامِ أَنَّہٗ یُطَہِّرُ .قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٧٣٠: سوید بن سعید کہتے ہیں ہمیں عمرو بن یحییٰ نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ ان آثار سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہڈی کے ساتھ استنجاء کی ممانعت جنابت کی وجہ سے فرمائی۔ اس بناء پر نہیں کہ یہ پتھروں کی طرح طہارت کا فائدہ نہیں دیتی۔ ہڈی کے ساتھ استنجاء کے سلسلہ میں ہم نے جو کچھ بیان کیا یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف و محمد بن الحسن (رح) کا قول ہے۔
تخریج : بیہقی ١؍١٧٤۔
حاصل روایات : ان روایات سے ممانعت کی علت معلوم ہوتی ہے کہ اس وجہ سے منع کیا گیا کہ وہ مسلمان جنات کا کھانا ہے اس لیے نہیں کہ اگر اس سے استنجاء کیا جائے تو وہ درست نہ ہوگا اور اس سے پتھر کی طرح طہارت حاصل نہ ہوگی پس فریق اوّل نے جو علت بیان کی وہ درست ثابت نہ ہوسکی۔
ہمارے امام ابوحنیفہ اور ابو یوسف و محمد بن الحسن (رح) کا اس سلسلہ میں یہی مسلک ہے۔