۷۳۱۵ : حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ قَالَ : ثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مَنْصُوْرٍ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ. وَہٰذَا عِنْدَنَا ، کَلَامٌ فَاسِدٌ ؛ لِأَنَّ ابْنَۃَ مَوْلَی ابْنَۃِ حَمْزَۃَ ، اِنْ کَانَ وَجَبَ لَہَا جَمِیْعُ مِیْرَاثِ أَبِیہَا بِرَحِمِہَا مِنْہُ، فَمُحَالٌ أَنْ یُطْعِمَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنْتَ حَمْزَۃَ .وَاِنْ کَانَ ذٰلِکَ لَمْ یَجِبْ لَہَا کُلُّہٗ، وَاِنَّمَا وَجَبَ لَہَا نِصْفُہٗ، فَمَا بَقِیَ بَعْدَ ذٰلِکَ النِّصْفُ ، رَاجِعٌ اِلٰی مَنْ أَعْتَقَہٗ، وَہِیَ ابْنَۃُ حَمْزَۃَ .فَاسْتَحَالَ مَا ذَکَرَ اِبْرَاھِیْمُ فِیْ ذٰلِکَ ، وَثَبَتَ أَنَّ مَا دَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی بِنْتِ حَمْزَۃَ ، کَانَ بِالْمِیْرَاثِ، لَا بِغَیْرِہٖ۔ فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ رُوِیَتْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا ، آثَارٌ فِیْ تَوْرِیْثِ مَنْ لَیْسَ بِعَصَبَۃٍ وَلَا رَحِمٍ ۔
٧٣١٥: حسن بن صالح نے منصور سے انھوں نے ابارہیم سے روایت کی مگر ہمارے نزدیک یہ بات غلط ہے کیونکہ حضرت حمزہ (رض) کی بیٹی کے آزاد کردہ غلام کی بیٹی کے لیے اس کی وراثت میں سے قرابت کے طور پر اگر تمام مال واجب ہوتا تو یہ ناممکن تھا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں سے حمزہ کی بیٹی کے لیے بطور خوراک کچھ دیتے اور اگر تمام مال لازم نہ تھا بلکہ آدھا ہی لازم تھا پھر اس سے بچا ہوا آدھا مال آزاد کرنے والے کی طرف جانا ہی تھا تو گویا بنت حمزہ کو جو کچھ دیا گیا وہ بطور ولاء دیا گیا پس جو کچھ ابراہیم (رح) کے ذکر کیا وہ درست نہ ہوا بلکہ یہ ثابت ہوگیا کہ میراث میں سے جو کچھ ان کو دیا گیا وہ بطور حق میراث ہی تھا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی روایات بھی وارد ہیں جن میں آپ نے ایسے لوگوں کو بھی وراثت دی جن کا نہ تو رحم کا رشتہ تھا اور نہ ہی وہ عصبات میں سے تھے ( روایت بطور نمونہ ملاحظہ ہو) ۔
t: جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی روایات بھی وارد ہیں جن میں آپ نے ایسے لوگوں کو بھی وراثت دی جن کا نہ تو رحم کا رشتہ تھا اور نہ ہی وہ عصبات میں سے تھے ( روایت بطور نمونہ ملاحظہ ہو) ۔