۷۳۱۶ : فَذَکَرَ مَا حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ ، قَالَ : أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ عَوْسَجَۃَ ، مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا مَاتَ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَتْرُکْ قَرَابَۃً اِلَّا عَبْدًا ہُوَ ، أَعْتَقَہٗ، فَأَعْطَاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِیْرَاثَہٗ۔قَالَ : فَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَدْ وَرَّثَ الْمَوْلَی الْأَسْفَلَ ، مِنَ الْمَوْلَی الْأَعْلٰی، وَأَنْتُمْ لَا تَقُوْلُوْنَ بِہٰذَا .قِیْلَ لَہٗ : اِنَّہٗ لَیْسَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَوْلَی الْأَسْفَلُ ، یَرِثُ الْمَوْلَی الْأَعْلَی۔وَاِنَّمَا فِیْہِ أَنَّہٗ دَفَعَ مِیْرَاثَہٗ، وَہُوَ تَرِکَتُہُ اِلَیْہٖ، وَلَیْسَ کَمَا رُوِیَ عَنْہُ فِی الْخَالِ ، أَنَّہٗ قَالَ ہُوَ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہٗ۔فَقَدْ یَحْتَمِلُ وُجُوْہًا .مِنْہَا أَنْ یَکُوْنَ دَفَعَہُ اِلَیْہِ ؛ لِأَنَّہٗ وَرَّثَہُ اِیَّاہُ بِمَالِ الْمَیِّتِ عَلَیْہِ مِنَ الْوَلَائِ .وَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ مَوْلَاہُ ذَا رَحِمٍ لَہٗ، فَدَفَعَ اِلَیْہِ مَالَہٗ بِالرَّحِمِ ، وَوَرَّثَہُ لَہٗ، لَا بِالْوَلَائِ .أَلَا تَرَاہُ یَقُوْلُ فِی الْحَدِیْثِ وَلَمْ یَتْرُکْ قَرَابَۃً اِلَّا عَبْدًا ہُوَ أَعْتَقَہٗ۔فَأَخْبَرَ أَنَّ الْعَبْدَ کَانَ قَرَابَۃً لَہٗ، فَوَرَّثَہُ بِالْقَرَابَۃِ .وَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ دَفَعَ اِلَیْہِ مِیْرَاثَہٗ۔ لِأَنَّ الْمَیِّتَ کَانَ أَمَرَ بِذٰلِکَ ، فَوَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَالَہٗ، حَیْثُ أَمَرَ بِوَضْعِہٖ فِیْہٖ، کَمَا قَدْ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ .
٧٣١٦: عوسجہ مولیٰ ابن عباس نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں فوت ہوا اور اس نے کوئی رشتہ دار پیچھے نہ چھوڑا سوائے ایک غلام کے جس کو وہ آزاد کرچکا تھا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی وراثت اس غلام کو دے دی۔ یہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مولاء اعلیٰ یعنی مالک کی وراثت مولاء اسفل یعنی آزاد کردہ غلام کو عنایت فرمائی حالانکہ تم اس کے قائل نہیں۔ تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ اس روایت میں تو قطعا یہ مذکور نہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح فرمایا ہو کہ مولاء اسفل مولاء اعلیٰ کا وارث ہوگا بس اتنی بات ہے کہ آپ نے غلام کو وہ وراثت عنایت فرما دی جو کہ اس کا ترکہ تھی یہ اس طرح نہیں جیسا کہ امموں کے بارے میں آپ نے صاف فرمایا کہ وہ اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو پس اس روایت میں کئی احتمالات ہیں۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو میت کا مال اس لیے عنایت فرمایا کہ وہ ولاء کے اعتبار سے اس مال کا حق دار تھا۔ ممکن ہے وہ غلام اس کا قرابت دار بھی ہو اور قرابت کی وجہ سے اس کو وہ مال ملا ہو ولاء کی وجہ سے نہ دیا ہو حدیث کے ان الفاظ سے ادھر اشارہ نکلتا ہے ” ولم یترک قرابتا الا عبدا ہو اعتقہ “ الحدیث کہ اس کا کوئی قرابت دار نہیں تھا سوائے اس غلام کے جس کو وہ آزاد کرچکا تھا تو اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ غلام اس کا قرابت دار تھا اس کو قرابت کی وجہ سے وراثت ملی۔ اس کی میراث اس لیے دی گئی ممکن ہے میت نے اس کا حکم دیا ہو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا مال وصیت کے مطابق لگا دیا جیسا کہ روایت ابن مسعود (رض) میں مذکور ہے (ملاحظہ ہو)
حاصل : یہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مولاء اعلیٰ یعنی مالک کی وراثت مولاء اسفل یعنی آزاد کردہ غلام کو عنایت فرمائی حالانکہ تم اس کے قائل نہیں۔
u: اس روایت میں تو قطعا یہ مذکور نہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح فرمایا ہو کہ مولاء اسفل مولاء اعلیٰ کا وارث ہوگا بس اتنی بات ہے کہ آپ نے غلام کو وہ وراثت عنایت فرما دی جو کہ اس کا ترکہ تھی یہ اس طرح نہیں جیسا کہ امموں کے بارے میں آپ نے صاف فرمایا کہ وہ اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو پس اس روایت میں کئی احتمالات ہیں۔
: کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو میت کا مال اس لیے عنایت فرمایا کہ وہ ولاء کے اعتبار سے اس مال کا حق دار تھا۔
!: ممکن ہے وہ غلام اس کا قرابت دار بھی ہو اور قرابت کی وجہ سے اس کو وہ مال ملا ہو ولاء کی وجہ سے نہ دیا ہو حدیث کے ان الفاظ سے ادھر اشارہ نکلتا ہے ” ولم یترک قرابتا الا عبدا ہو اعتقہ “ الحدیث کہ اس کا کوئی قرابت دار نہیں تھا سوائے اس غلام کے جس کو وہ آزاد کرچکا تھا تو اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ غلام اس کا قرابت دار تھا اس کو قرابت کی وجہ سے وراثت ملی۔
": اس کی میراث اس لیے دی گئی ممکن ہے میت نے اس کا حکم دیا ہو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا مال وصیت کے مطابق لگا دیا جیسا کہ روایت ابن مسعود (رض) میں مذکور ہے (ملاحظہ ہو)