hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 747

.

الطحاوي

747
Al Tahawi
۷۴۷ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ : أَنَا ہِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِیْ أَبِیْ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا مِثْلَہٗ وَزَادَ " فَإِنَّہٗ لَا یَدْرِیْ لَعَلَّ نَفْسَہٗ تُصَابُ فِیْ نَوْمِہٖ .فَمُحَالٌ أَنْ یَکُوْنَ عِنْدَہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِلَافُ ھٰذَا، ثُمَّ تُفْتِیْ بِھٰذَا .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا، فَسَادُ مَا رُوِیَ، عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، مِمَّا ذَکَرْنَا، وَثَبَتَ مَا رَوٰی اِبْرَاہِیْمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ .وَقَدْ یَحْتَمِلُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ مَا أَرَادَ أَبُوْ إِسْحَاقَ فِیْ قَوْلِہٖ" وَلَا یَمَسُّ مَائً " یَعْنِی الْغُسْلَ، فَإِنَّ أَبَا حَنِیْفَۃَ، قَدْ رُوِیَ عَنْہُ مِنْ ھٰذَا شَیْئًا ۔
٧٤٧: ہشام نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے : ” فَإِنَّہٗ لَا یَدْرِیْ لَعَلَّ نَفْسَہٗ تُصَابُ فِیْ نَوْمِہٖ “ اسے کیا معلوم کہ اسے اسی نیند میں موت آجائے۔ پس یہ بات ناممکن ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے پاس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے مخالف بات ہو پھر وہ اس کے ساتھ فتویٰ بھی دیں۔ پس ہم نے جو کچھ بیان کیا اس سے ابو اسحق والی روایت کا بگاڑ ثابت ہوگیا اور ابراہیم کی اسود والی روایت ثابت ہوگئی اور ایک احتمال ابو اسحق کی روایت ” لا یمس مائً “ میں یہ ہے کہ غسل نہ کرتے تھے اور اس سلسلہ میں امام ابوحنیفہ (رح) نے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے اس طرح کی روایت کی ہے ‘ ملاحظہ ہو۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍٦٣۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) کے فتویٰ سے صاف نظر آگیا کہ یہ بات تو ناممکن ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فعل ان کو اس کے خلاف معلوم ہو اور وہ اس کے الٹ فتویٰ دیں پس ابو اسحاق عن الاسود کی روایت کی غلطی ظاہر ہوگئی اور ابراہیم عن الاسود کی روایت درست ثابت ہوگئی۔

ابو اسحاق کے قول : وَلَا یَمَسُّ مَائً میں ایک دوسرا احتمال :
غسل نہ کرنے سے کنایہ ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) نے ابو اسحاق سے اس طرح کی روایت نقل کی ہے ملاحظہ ہو۔