۷۸۱ : بِمَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ دَاوٗدَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی أَنَّ (عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ زَیْدٍ رَأَی رَجُلًا نَزَلَ مِنَ السَّمَائِ عَلَیْہِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، أَوْ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ، فَقَامَ عَلَی جِذْمِ حَائِطٍ فَنَادَی اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ .فَذَکَرَ الْأَذَانَ عَلٰی مَا فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ، غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرِ التَّرْجِیْعَ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہٗ فَقَالَ نِعْمَ مَا رَأَیْتَ عَلِّمْہُ بِلَالًا) .
٧٨١: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زید (رض) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ آسمان سے اترا اس نے دو سبز کپڑے پہن رکھے تھے یا اس پر دو سبز چادریں تھیں وہ دیوار کے ایک حصے پر کھڑا ہوا اور اس نے اذان دی اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ‘ ۔ اس روایت میں ابو محذورہ کے مطابق اذان کو ذکر کیا گیا ہے البتہ اس میں ترجیع نہیں ہے وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور آپ کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا تم نے خوب خواب دیکھا یہ بلال کو سکھاؤ۔
تخریج : مسند احمد ٥؍٢٣٢۔