۷۸۲ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی النَّیْسَابُوْرِیُّ، قَالَ : ثَنَا وَکِیْعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ زَیْدِ الْأَنْصَارِیَّ رَأَی الْأَذَانَ فِی الْمَنَامِ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہٗ فَقَالَ عَلِّمْہُ بِلَالًا فَقَامَ بِلَالٌ، فَأَذَّنَ مَثْنٰی مَثْنٰی) .فَھٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ، لَمْ یَذْکُرْ فِیْ حَدِیْثِہٖ التَّرْجِیْعَ، فَقَدْ خَالَفَ أَبَا مَحْذُوْرَۃَ فِی التَّرْجِیْعِ فِی الْأَذَانِ .فَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ التَّرْجِیْعُ الَّذِیْ حَکَاہُ أَبُوْ مَحْذُوْرَۃَ إِنَّمَا کَانَ لِأَنَّ أَبَا مَحْذُوْرَۃَ لَمْ یَمُدَّ بِذٰلِکَ صَوْتَہُ، عَلٰی مَا أَرَادَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْہُ، فَقَالَ لَہٗ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (ارْجِعْ وَامْدُدْ مِنْ صَوْتِکَ) ھٰکَذَا اللَّفْظُ فِی الْحَدِیْثِ .فَلَمَّا احْتَمَلَ ذٰلِکَ، وَجَبَ النَّظَرُ، لِنَسْتَخْرِجَ بِہٖ مِنَ الْقَوْلَیْنِ قَوْلًا صَحِیْحًا، فَرَأَیْنَا مَا سِوَیْ مَا اخْتَلَفَ فِیْہِ مِنَ الشَّہَادَۃِ أَنْ (لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ " لَا تَرْجِیْعَ فِیْہِ) .فَالنَّظَرُ عَلٰی ذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ مَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ عَنْ ذٰلِکَ، مَعْطُوفًا عَلٰی مَا أَجْمَعُوْا عَلَیْہِ، وَیَکُوْنُ إِجْمَاعُہُمْ، أَنْ لَا تَرْجِیْعَ فِیْ سَائِرِ الْأَذَانِ غَیْرَ الشَّہَادَۃِ یَقْضِیْ عَلَی اخْتِلَافِہِمْ فِی التَّرْجِیْعِ فِی الشَّہَادَۃِ .وَھٰذَا الَّذِیْ وَصَفْنَا وَمَا بَیَّنَّاہُ مِنْ نَفْیِ التَّرْجِیْعِ، قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمَا اللّٰہُ تَعَالٰی.
٧٨٢: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان کیا کہ عبداللہ بن زید بن عبداللہ انصاری (رض) نے اذان کو خواب میں دیکھا پس وہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور آپ کو اطلاع دی تو آپ نے فرمایا تم بلال کو سکھا دو پس بلال کھڑے ہوئے اور انھوں نے دو دو مرتبہ کلمات سے اذان دی یہ عبداللہ بن زید (رض) ہیں جنہوں نے اپنی روایت میں ترجیع کا ذکر نہیں کیا۔
تخریج : مسند احمد ٥؍٢٤٦۔
حاصل روایات : یہ عبداللہ بن زید ہیں جن کی روایت میں ترجیع نہیں اور ابو محذورہ (رض) کی روایت میں ترجیع ہے اب ان کی روایت میں ترجیع ہے اس میں تاویل کرنا پڑے گی کہ وہ اس وقت مسلمان نہ ہوئے تھے اور شہادت کو انھوں نے آہستہ کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ارجع وامدد من صوتک یہ الفاظ روایت ابو داؤد کتاب الصلاۃ باب ٢٨‘ نسائی فی الاذان باب ٥‘ میں مذکور ہیں تو ان کی روایت میں اس علت کی وجہ سے احتمال پیدا ہوگیا پس اس سے حجت درست نہیں اب اس فیصلہ پر پہنچنے کے لیے بطریق نظر دیکھنا ہوگا۔
نظر طحاوی (رح) :
اور کسی کلمہ اذان میں اختلاف نہیں صرف شہادتین کے متعلق اختلاف ہے تو اب جس بات میں اختلاف ہے اس کو اس طرف موڑو جس میں اختلاف نہیں ہے اور اس پر اتفاق ہے کہ علاوہ شہادتین کسی حصہ میں ترجیع نہیں ہے تو اس سے خود سمجھ آگیا کہ اس میں بھی ترجیح نہیں کیونکر ترجیع اس علت پر موقوف تھی یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ابو یوسف و محمد کا قول ہے۔
نوٹ : اس باب میں نظر کو دو مرتبہ استعمال کیا مگر اذان کے سلسلہ میں اپنے راجح مسلک کے روایات سے کم دلائل پیش کئے ایک ہی دلیل سے دوھرا کام لیا۔