۷۹۴ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ دَاوٗدَ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی، أَنَّ (عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ زَیْدٍ رَأٰی رَجُلًا نَزَلَ مِنَ السَّمَائِ، عَلَیْہِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، أَوْ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ، فَقَامَ عَلَی جِذْمِ حَائِطٍ فَأَذَّنَ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا فِی الْبَابِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَعَدَ، ثُمَّ قَامَ فَأَقَامَ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہٗ فَقَالَ : نِعْمَ مَا رَأَیْتُ، عَلِّمْہَا بِلَالًا) .
٢٩٤: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زید بن عبد ربہ نے ایک آدمی دیکھا جو آسمان سے اترا اس نے سبز کپڑے زیب تن کر رکھے تھے یا دو سبز چادریں اوڑھ رکھی تھیں وہ دیوار کے ایک حصہ پر کھڑا ہوا اور اس نے اذان دی اللہ اکبر اللہ اکبر جیسا باب اول میں ہم نے ذکر کیا پھر وہ بیٹھ گیا پھر کھڑا ہوا اور اسی طرح اقامت کہی پھر عبداللہ بن زید (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور آپ کو اطلاع دی تو آپ نے فرمایا تم نے بہت خوب دیکھا یہ کلمات بلال کو سکھاؤ۔
تخریج : روایت نمبر ٧٨١ کو ملاحظہ کریں۔