۷۹۵ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی النِّیْسَابُوْرِیُّ قَالَ : ثَنَا وَکِیْعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، (أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ زَیْدِ ڑ الْأَنْصَارِیَّ رَأٰی فِی الْمَنَامِ الْأَذَانَ فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَہٗ فَقَالَ : عَلِّمْہُ بِلَالًا فَأَذَّنَ مَثْنٰی مَثْنٰی‘ وَأَقَامَ مَثْنٰی مَثْنٰی‘ وَقَعَدَ قَعْدَۃً) .
٧٩٥: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی کہ عبداللہ بن زید انصاری نے خواب میں اذان دیکھی پھر وہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور آپ کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا تم اسے بلال کو سکھاؤ پس انھوں نے دو دو مرتبہ کلمات سے اذان دی اور دو دو مرتبہ کلمات سے اقامت کہی اور بیٹھ گئے۔
تخریج : المحلّٰی لابن حزم ٢؍١٩١