۷۹۶ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِیْ أُنَیْسَۃَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ : حَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔قَالَ : عَبْدُ اللّٰہِ : لَوْلَا أَنِّیْ أَتَّہِمُ نَفْسِیْ لَظَنَنْتُ أَنِّیْ رَأَیْتُ ذٰلِکَ وَأَنَا یَقْظَانُ غَیْرُ نَائِمٍ ثُمَّ قَالَ : وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " أَنَا وَاللّٰہِ لَقَدْ طَافَ بِی الَّذِیْ طَافَ بِعَبْدِ اللّٰہِ، فَلَمَّا رَأَیْتَہٗ قَدْ سَبَقَنِی، سَکَتُّ" فَفِیْ ھٰذَا الْأَثَرِ أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ بِتَعْلِیْمِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ بِأَمْرِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِیَّاہُ بِذٰلِکَ، فَأَقَامَ مَثْنٰی مَثْنٰی‘ فَھٰذَا یُخَالِفُ الْحَدِیْثَ الْأَوَّلَ .ثُمَّ قَدْ رُوِیَ عَنْ بِلَالٍ أَنَّہٗ کَانَ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُؤَذِّنُ مَثْنٰی مَثْنٰی، وَیُقِیْمُ مَثْنٰی مَثْنٰی‘ فَدَلَّ ذٰلِکَ أَیْضًا عَلَی انْتِفَائِ مَا رَوٰی أَنَسٌ.
٧٩٦: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں ہمیں اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذکر فرمایا ہے پھر اسی طرح روایت نقل کی عبداللہ کہتے ہیں اگر اپنے نفس کو متہم کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں کہتا میں نے یہ بات بیداری کی حالت میں دیکھی ہے جبکہ میں نیند میں نہ تھا پھر کہنے لگے اور عمر بن خطاب کہنے لگے اللہ کی قسم خواب میں وہی آنے والا جو عبداللہ کو آیا مجھے بھی آیا جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھ سے آگے بڑھ گئے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ اس اثر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اذان بلالی تلقین عبداللہ بن زید (رض) سے تھی۔ پس ان کی اقامت دو دو بار ہے۔ یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے۔ پھر حضرت بلال (رض) سے مروی ہے کہ وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اذان بھی دو دو کلمات اور اقامت بھی دو دو کلمات سے کہتے تھے۔ یہ اس چیز کی نفی پر دلالت کرتی ہے جس کو حضرت انس (رض) نے روایت کیا ہے۔
تخریج : المحلی ابن حزم ٢؍١٩٢۔
نوٹ : نمبر ١: اس اثر سے صاف ظاہرہو رہا ہے کہ بلال نے عبداللہ بن زید کی تعلیم پر جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اذان دی پس انھوں نے اقامت دو دو مرتبہ کہی یہ حدیث اول کے خلاف ہے اور یہ روایت روایت انس (رض) کے مقابلے میں مفصل ہے وہ مجمل ہے اس کو اس پر محمول کیا جائے گا۔
نمبر ٢: دو دو مرتبہ کلمات سے اذان دیتے تھے اور اقامت بھی دو دو مرتبہ کہتے رہے پس یہ فعل بھی انس والی روایت کی نفی کرتا ہے۔