hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 813

.

الطحاوي

813
Al Tahawi
۸۱۳ : وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ : أَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِیْ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ التَّثْوِیْبُ فِیْ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ - اِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ (حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ) قَالَ : (الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ) مَرَّتَیْنِ .فَھٰذَا ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَأَنَسٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُخْبِرُ أَنَّ ذٰلِکَ مِمَّا کَانَ الْمُؤَذِّنُ یُؤَذِّنُ بِہٖ فِیْ أَذَانِ الصُّبْحِ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ مَا ذَکَرْنَا، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ؛ وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی.
٨١٣: محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ حضرت انس (رض) کہتے ہیں فجر کی اذان میں تثویب یہ ہے کہ جب مؤذن حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ سے فارغ ہوجائے تو دو مرتبہ الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ کا کلمہ کہا جائے۔ پس یہ ابن عمر اور انس (رض) ہیں جو خبر دے رہے ہیں کہ یہ کلمات وہ ہیں جن کو مؤذن اذانِ صبح میں پڑھا کرتا تھا۔ پس ان روایات سے یہ ثابت ہوگیا اور یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابویوسف اور محمد (رح) کا قول ہے۔
تخریج : بیہقی فی الکبرٰی ١؍٦٢٣۔
خلاصہ روایات : ان روایات ثلاثہ سے ثابت ہو کہ اذان صبح میں الفلاح کے بعد الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ کا کلمہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور زمانہ صحابہ سے ثابت ہے یہی ہمارے ائمہ ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا مسلک ہے۔
نوٹ : باب کی روایت سے الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ کا ثبوت جو زبان نبوت سے ثابت ہوگیا تو جو لوگ اس کو احداث عمری کہتے ہیں ان کو حشر کی صبح سے ڈرنا چاہیے۔
` بَابُ التَّأْذِیْنِ لِلْفَجْرِ ، أَیُّ وَقْتٍ ہُوَ ؟ بَعْدَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ ، أَوْ قَبْلَ ذٰلِکَ ؟`
فجر کی اذان کس وقت کہی جائے ؟
فریق نمبر ١: امام ابو یوسف ‘ شافعی ومالک و احمد ‘ جمہور کے نزدیک اذان فجر طلوع صبح صادق سے پہلے جائز ہے۔
فریق نمبر ٢: امام ابوحنیفہ ‘ محمد ‘ سفیان ثوری ‘ حسن بصری (رح) کے ہاں اذان طلوع فجر صادق سے پہلے درست نہیں لوٹانا واجب ہے۔
فریق نمبر ١ کا مؤقف اذان فجر طلوع صبح صادق سے پہلے درست ہے۔