۸۱۴ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیُّ قَالَ : ثَنَا مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (إِنَّ بِلَالًا یُنَادِیْ بِلَیْلٍ، فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا، حَتّٰی یُنَادِیَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ) .قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : وَکَانَ رَجُلًا أَعْمٰی لَا یُنَادِیْ حَتّٰی یُقَالَ لَہٗ " أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ " .
٨١٤: سالم نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بلال رات کو اذان دے دیتا ہے پس تم اس وقت تک کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں ابن شہاب کہتے ہیں یہ ابن ام مکتوم نابینا تھے یہ اس وقت تک اذان نہ دیتے جب تک لوگ ان کو تاکید سے أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ کہتے۔ یعنی تم نے صبح کردی تم نے صبح کردی۔
تخریج : بخاری فی الاذان باب ١١‘ ١٢‘ ١٣‘ ترمذی فی المواقیت باب ٣٥‘ نمبر ٢٠٣‘ نسائی فی الاذان باب ٩‘ مالک فی النداء حدیث نمبر ١٤؍١٥‘ مسند احمد ٢؍٩‘ ٥٧۔