۸۴۱ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ الْأَصْبَہَانِیِّ، قَالَ : أَنَا شَرِیْکٌ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ قَالَ : شَیَّعْنَا عَلْقَمَۃَ إِلٰی مَکَّۃَ، فَخَرَجَ بِلَیْلٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَقَالَ : " أَمَّا ھٰذَا " فَقَدْ خَالَفَ سُنَّۃَ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لَوْ کَانَ نَائِمًا کَانَ خَیْرًا لَہٗ فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، أَذَّنَ .فَأَخْبَرَ عَلْقَمَۃُ أَنَّ التَّأْذِیْنَ قَبْلَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ، خِلَافٌ لِسُنَّۃِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔
٨٤١: ابراہیم کہتے ہیں ہم علقمہ کے ساتھ مکہ کی طرف گئے وہ رات کو نکلے تو انھوں نے ایک مؤذن کو رات کے وقت اذان دیتے سنا آپ نے فرمایا لو سنو ! اس شخص نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقہ کی خلاف ورزی کی ہے اگر اس کی بجائے سو رہتا تو بہتر تھا جب فجر طلوع ہوجاتی تب اذان دیتا۔ حضرت علقمہ نے یہ بات بتلا دی کہ طلوع فجر سے پہلے اذان یہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقہ کے خلاف ہے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍١٩٤۔
حاصل آثار :
علقمہ اور سفیان بن سعید کے ارشاد سے معلوم ہوا کہ اذان فجر طلوع صبح صادق سے پہلے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کے طریق کی مخالفت ہے۔
نوٹ : اس باب میں نظر کے بعد تائید کے لیے اقوال تابعین کو ذکر کیا اور ائمہ ثلاثہ کے ساتھ پہلی مرتبہ سفیان ثوری (رح) کا نام لائے۔