hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 842

.

الطحاوي

842
Al Tahawi
۸۴۲ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمٍ، أَنَّہٗ سَمِعَ (زِیَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِیَّ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا کَانَ أَوَّلُ الصُّبْحِ أَمَرَنِیْ فَأَذَّنْتُ، ثُمَّ قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ فَجَائَ بِلَالٌ لِیُقِیْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، إِنَّ أَخَا صُدَائٍ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَہُوَ یُقِیْمُ) .
٨٤٢: زیاد بن نعیم نے زیاد بن حارث صدائی کو فرماتے سنا کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا جب صبح کی ابتداء ہوئی تو مجھے حکم دیا پس میں نے اذان دی پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو بلال اقامت کہنے لگے تو آپ نے فرمایا تمہارے بھائی زیاد صدائی نے اذان دی ہے اور جو اذان دے وہی اقامت کہتا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٣٠‘ نمبر ٥٤٤‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ٣٢‘ نمبر ١٩٩‘ ابن ماجہ فی الاذان والسنۃ باب ٣‘ نمبر ٧١٧‘ مسند احمد ٤؍١٦٩‘ بیہقی فی السنن الکبرٰی ١؍٣٩٩۔
خلاصہ الزام : نمبر ١: جو اذان دے وہی اقامت کہے ایسا لازم ہے یہ امام شافعی و احمد ‘ اوزاعی (رح) کا مسلک ہے۔
نمبر ٢: ایک اذان دے دوسرا اقامت کہے تو درست مگر بہتر اسی کا کہنا ہے۔
مؤذن و مکبّر ایک شخص ہونا چاہیے اس کی روایات مندرجہ ذیل ہیں۔