۸۴۳ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ، عَنْ سُفْیَانَ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا الْحَدِیْثِ، فَقَالُوْا : لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یُقِیْمَ لِلصَّلَاۃِ غَیْرُ الَّذِیْ أَذَّنَ لَہَا، وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ أَنْ یُقِیْمَ الصَّلَاۃَ غَیْرُ الَّذِیْ أَذَّنَ لَہَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٨٤٣: عبداللہ بن الحارث الصدائی نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) اور ایک جماعت علماء نے اس روایت کو اپنایا اور انھوں نے کہا کہ یہ مناسب نہیں کہ جس نے اذان کہی ہو اس کے علاوہ اقامت کہے۔ علماء کی دوسری جماعت نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں حرج نہیں کہ مؤذن کے علاوہ دوسرا اقامت کہے اور ان کی دلیل یہ آثار ہیں۔
تخریج : المعجم الکبیر ٥؍٢٦٣۔
حاصل روایات : ان دونوں روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ مؤذن کو ہی اقامت کہنا چاہیے دوسرے کو درست نہیں۔