۸۶۵ : مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : (کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ بَعْضِ أَسْفَارِہٖ، فَسَمِعَ مُنَادِیًا وَہُوَ یَقُوْلُ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَقَالَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ النَّارِ قَالَ فَابْتَدَرْنَاہُ فَإِذَا ہُوَ صَاحِبُ مَاشِیَۃٍ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ، فَنَادٰی بِہَا) .فَھٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ سَمِعَ الْمُنَادِیَ یُنَادِی فَقَالَ غَیْرَ مَا قَالَ فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ قَوْلَہٗ" اِذَا سَمِعْتُمُ الْمُنَادِیَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ الَّذِیْ یَقُوْلُ " أَنَّ ذٰلِکَ لَیْسَ عَلَی الْاِیْجَابِ وَأَنَّہٗ عَلَی الْاِسْتِحْبَابِ وَالنُّدْبَۃِ إِلَی الْخَیْرِ وَإِصَابَۃِ الْفَضْلِ، کَمَا عَلَّمَ النَّاسَ مِنَ الدُّعَائِ الَّذِیْ أَمَرَہُمْ أَنْ یَقُوْلُوْہُ فِیْ دُبُرِ الصَّلَاۃِ وَمَا أَشْبَہَ ذٰلِکَ .
٨٦٥: حضرت عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ سفر میں ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں تھے آپ نے مؤذن کو اذن دیتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہا ہے اللہ اکبر اللہ اکبر تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ فطرت (اسلام) پر ہے پھر مؤذن اشہد ان لا الٰہ الا اللہ پکارا تو آپ نے فرمایا یہ آگ سے بری ہوگیا (کیونکہ یہ اسلام و ایمان کی گواہی ہے) عبداللہ کہتے ہیں ہم جلدی سے اس کی طرف گئے تو وہ ایک گڈریا تھا جس نے نماز کا وقت پایا تو اس کے لیے اذان دی۔ یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں کہ آپ نے مؤذن کو اذان دیتے سنا اور مؤذن کے الفاظ کے علاوہ کلمات فرمائے۔ یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد مبارک کہ مؤذن کی جب اذان سنو تو اس کی مثل کہو سے مراد اس کا لزوم و وجوب نہیں بلکہ استحباب ہے اور فضیلت و خیر کا حصول ہے جیسا کہ نماز کے بعد والی دعائیں لوگوں کو مانگنے کے لیے سکھائیں اور دیگر اس کے مشابہہ چیزیں۔
تخریج : مسلم فی الصلاۃ نمبر ٩‘ ترمذی فی اسیر باب ٤٨‘ نمبر ١٦١٨‘ مسند احمد ١, ٤٠٧‘ ٣؍١٣٢‘ مصنف عبدالرزاق نمبر ١٨٦٦‘ طبرانی معجم الکبیر ١٠؍١١٥۔
جواب فریق اوّل :
حاصل روایت یہ ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مؤذن کی اذان سن کر مؤذن والے کلمات نہیں کہے اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ اذا سمعتم المنادی فقولوا مثل الذی یقول یہ وجوب کے لیے نہیں ہے بلکہ مستحب و سبقت الی الخیر ہے اور فضیلت کا حصول ہے جیسا کہ لوگوں کو معلوم و معروف ہے کہ نمازوں کے بعد پڑھنے کے لیے جو دعائیں آپ نے سکھلائیں وہ واجب نہیں بلکہ مستحب ہیں اور اس کی مثالیں بہت ہیں۔