hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 866

.

الطحاوي

866
Al Tahawi
۸۶۶ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ، عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حَکِیْمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٨٦٦: نافع بن جبیر ابن عباس (رض) سے اسی طرح کی روایت نقل کرتے ہیں۔
خلاصہ الزام : پوری زندگی کے لیے حکم نماز کا خطاب ہماری طرف ہے اس لیے ان تمامی اوقات کو ملحوظ رکھا گیا ہے وقت فجر کی ابتداء میں تو سب کا اتفاق ہے البتہ آخری وقت سے متعلق امام شافعی (رح) ومالک (رح) کے ہاں اسفار پر وقت فجر ختم ہوجاتا ہے جبکہ نمبر ٢ احناف ‘ حنابلہ اور جمہور طلوع آفتاب تک وقت مانتے ہیں وقت ظہر کی ابتداء تو بالاتفاق زوال کے بعد سے ہے مگر اختتام کے متعلق نمبر امام شافعی ومالک کے ہاں مثل اول پر ظہر کا وقت ختم ہوجاتا مگر عصر کا وقت چار رکعت کی مقدار وقفے سے شروع ہوتا ہے نمبر ٢ صاحبین و جمہور کے ہاں مثل اول کے اختتام پر متصل عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے کہ درمیانہ وقت مشترک ہے نمبر ٣ امام ابوحنیفہ (رح) کے ہاں وقت ظہر دو مثل تک رہتا ہے وقت عصر کی ابتداء اوپر درج اقوال کے مطابق ہے اختتام عصر میں امام شافعی ومالک (رح) دو مثل پر ختم مانتے ہیں نمبر ٢ امام احمد کے ہاں اصفرار اور شمس تک وقت ہے نمبر احناف ‘ جمہور کے ہاں غروب آفتاب تک ہے وقت مغرب غروب آفتاب سے بالاتفاق شروع ہوتا ہے صرف عطائ (رح) کا قول طلوع نجوم سے شروع ہونا ہے آخری وقت امام مالک و شافعی (رح) کے ہاں تین رکعت خشوع و خضوع سے پڑھنے کی مقدار ہے خواہ وہ کتنی طویل ہوں نمبر ٢ ان کا ایک قول جمہور اور صاحبین کے ساتھ ہے کہ شفق احمر تک وقت ہے نمبر ٣ امام ابوحنیفہ کے ہاں شفق ابیض پر اس کا وقت ختم ہوتا ہے اور وقت عشاء علی اختلاف الاقوال مغرب کے وقت کے ختم ہونے پر اور آخری وقت امام مالک (رح) و شافعی (رح) کے ہاں نصف لیل تک ہے احناف ‘ جمہور فقہاء کے ہاں طلوع صبح صادق سے پہلے تک وقت ہے۔
تخریج : الستدرک ١؍٣٠٧۔