hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 878

.

الطحاوي

878
Al Tahawi
۸۷۸ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو .قَالَ شُعْبَۃُ حَدَّثَنِیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَرَفَعَہُ مَرَّۃً وَلَمْ یَرْفَعْہُ مَرَّتَیْنِ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ فَفِیْ ھٰذَا الْأَثَرِ أَنَّ آخِرَ وَقْتِہَا، حِیْنَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ، وَذٰلِکَ بَعْدَمَا یَصِیْرُ الظِّلُّ قَامَتَیْنِ، فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ الْوَقْتَ الَّذِیْ قَصَدَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْآثَارِ الْاُوَلِ مِنْ وَقْتِہَا، ہُوَ وَقْتُ الْفَضْلِ، لَا الْوَقْتُ الَّذِیْ اِذَا خَرَجَ فَاتَتِ الصَّلَاۃُ بِخُرُوْجِہٖ حَتَّی تَصِحَّ ھٰذِہِ الْآثَارُ وَلَا تَتَضَادَّ .غَیْرَ أَنَّ قَوْمًا ذَہَبُوْا إِلٰی أَنَّ آخِرَ وَقْتِہَا إِلٰی غُرُوْبِ الشَّمْسِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٨٧٨: ابو ایوب نے عبداللہ بن عمرو سے اسی طرح روایت نقل کی ہے شعبہ کہتے ہیں میرے استاذ قتادہ نے اس کو تین مرتبہ بیان کیا ایک مرتبہ مرفوع نقل کی اور دو مرتبہ روایت کو مرفوع نقل نہیں کیا۔
اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ عصر کا آخری وقت آفتاب کا پیلا پڑنا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوجاتا ہے تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ وہ وقت جس کا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصد کیا اور آثار اوّل میں مذکور ہے وہ افضل وقت ہے ‘ اس سے وہ وقت مراد نہیں ہے کہ جب وہ نکل جائے تو اس کے نکلنے سے نماز فوت ہوجائے۔ یہ بات اس لیے کہی تاکہ ان آثار کا تطبیقی معنی سامنے آجائے اور تضاد ختم ہو ‘ البتہ بعض لوگوں نے کہا کہ عصر کا وقت غروب آفتاب تک ہے۔
تخریج : مسلم ١؍٢٢٣۔
ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عصر کی نماز کا آخری وقت اصفر ار شمس ہے اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جبکہ ہر چیز کا سایہ دو مثل سے زیادہ ہوجائے۔
عمدہ تطبیق روایات :
معلوم ہوا کہ پہلے آثار میں جس وقت کا تذکرہ ہے وہ وقت فضیلت ہے وہ وقت نہیں کہ جس کے خروج سے نماز فوت ہوجاتی ہے یہ تطبیق اختیار کی جائے تو آثار میں تضاد باقی نہیں رہتا۔
وقت عصر میں اختلاف ثانی :
فریق اوّل : غروب آفتاب سے اس کا وقت ختم ہوتا ہے یہ ہمارے ائمہ ثلاثہ کا مذہب ہے یعنی امام ابوحنیفہ (رح) و صاحبین (رح) غیران قومًا اذہبوا سے یہی لوگ مراد ہیں۔