hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 879

.

الطحاوي

879
Al Tahawi
۸۷۹ : بِمَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (مَنْ أَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ، فَقَدْ أَدْرَکَ الصَّلَاۃَ، وَمَنْ أَدْرَکَ رَکْعَتَیْنِ مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَ) .
٨٧٩: ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ جس نے نماز صبح کی ایک رکعت طلوع شمس سے پہلے پالی اس نے گویا نماز پا لی اور جس نے دو رکعت عصر کے غروب سے پہلے پالیں اس نے گویا نماز عصر کو پا لیا۔
تخریج : بخاری فی مواقیت الصلاۃ باب ٢٨‘ مسلم فی المساجد و مواضع الصلاۃ نمبر ٨٦٣‘ ابن ماجہ فی الصلاۃ نمبر ٦٩٦‘ نسائی فی المواقیب باب ٢٨‘ بیہقی فی السنن الکبرٰی ١؍٣٧٨۔
مَنْ أَدْرَکَ رَکْعَۃً کی ایک شاندار توجیہ :
اس سے مراد کسی غیر مکلف کا اتنا وقت پالینا جس میں وضو کر کے ایک رکعت ادا کی جاسکے یہ اس نماز کو اس کے ذمہ قرض بنا دیتا ہے وہ نماز اسے قضاء کرنا ضروری ہے۔ (فیض الباری ١١٩؍ج ٢)