۸۸۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ: ثَنَا أَبُوْ عَامِرِ ڑ الْعَقَدِیُّ، قَالَ : ثَنَا مُوْسَی بْنُ عُلَیٍّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِیُّ عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرِ ڑ الْجُہَنِیِّ قَالَ: (ثَلَاثُ سَاعَاتٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْہَانَا أَنْ نُصَلِّیَ فِیْہِنَّ، وَأَنْ نُقْبِرَ فِیْہِنَّ مَوْتَانَا، حِیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَۃً حَتَّی تَرْتَفِعَ وَحِیْنَ تَقُوْمُ قَائِمُ الظَّہِیْرَۃِ حَتّٰی تَمِیْلَ، وَحِیْنَ تَضِیْفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوْبِ، حَتّٰی تَغْرُبَ) .
٨٨٥: علی کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن عامر الجھنی (رض) نے فرمایا کہ تین ایسے اوقات ہیں جن میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھنے سے ہمیں منع فرماتے اور مردوں کو قبر میں ڈالنے (یعنی نماز جنازہ) سے منع فرماتے جبکہ سورج چمک دے یہاں تک کہ بلند ہو اور جب سورج زوال کے وقت میں ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے اور جب غروب کی طرف مائل ہو یہاں تک کہ غروب ہوجائے۔
تخریج : مسلم فی صلوۃ المسافرین نمبر ٢٩٥‘ ابو داؤد فی الجنائز باب ٥١‘ نمبر ٣١٩٢‘ ترمذی فی الجنائز باب ٤١‘ نمبر ٠٣٠١‘ ابن ماجہ فی الجنائز باب ٣٠‘ نمبر ١٥١٩‘ نسائی فی المواقیت باب ٤‘ ٣١‘ والجنائز باب ٨٩‘ دارمی فی الصلاۃ باب ١٤٢‘ مسند احمد ٤؍١٥٢‘ بیہقی فی السنن الکبرٰی ٢؍٤٥٤‘ ٤؍٣٢۔
اللغات : بازغہ : چمکنا ‘ ترتفع : بلند ہونا ‘ قائم الظہیرہ : دوپہر کا وقت ‘ نصف النہار۔ تضیف : مائل ہونا۔