۸۹۲ : بِمَا حَدَّثَنَا فَہْدٌ، قَالَ ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَیْرِ بْنِ نُعَیْمٍ، عَنْ أَبِیْ ھُبَیْرَۃَ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ أَبِیْ تَمِیْمِ ڑ الْجَیْشَانِیِّ، عَنْ أَبِیْ بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ قَالَ : (صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمَخْمِصِ فَقَالَ : إِنَّ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ عُرِضَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَضَیَّعُوْہَا، فَمَنْ حَافَظَ عَلَیْہَا مِنْکُمْ أُوْتِیَ أَجْرَہٗ مَرَّتَیْنِ، وَلَا صَلَاۃَ بَعْدَہَا حَتّٰی یَطْلُعَ الشَّاہِدُ) .
٨٩٢: ابو ہبیرہ شیبانی نے ابو تمیم جیشانی سے اور انھوں نے حضرت ابو بصرہ غفاری (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں مقام مخمص میں عصر کی نماز پڑھائی پھر فرمایا یہ نماز پہلی امتوں کو پیش کی گئی انھوں نے اس کو ضائع کردیا پس جس نے اس کی حفاظت کی اس کو دو مرتبہ اجر ملے گا اس کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ ستارے طلوع ہوجائیں۔
تخریج : مسلم فی صلوۃ المسافرین نمبر ٢٩٢۔
خلاصہ الزام : مغرب کے وقت کی ابتداء اور اختتام کے متعلق اختلاف ہے بعض نے وقت مغرب کی ابتداء طلوع نجوم سے قرار دی ہے یہ عطاء بن ابی رباح وغیرہ کا مذہب ہے جبکہ جمہور فقہاء ائمہ اربعہ غروب آفتاب کے متصل بعد اس کا وقت مانتے ہیں مغرب کا آخری وقت تین رکعت اطمینان سے وضو کر کے خشوع و خضوع سے ادا کرلیں تو مغرب کا وقت ختم ہوجاتا ہے دوسرا قول امام احمد جمہور فقہاء شفق احمر تک مغرب کا وقت ہے قول ثالث امام ابوحنیفہ (رح) اور عبداللہ بن مبارک شفق ابیض تک مغرب کا وقت رہتا ہے۔