۸۹۳ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ یَزِیْدُ بْنُ أَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ خَیْرِ بْنِ نُعَیْمِ ڑ الْحَضْرَمِیِّ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ بِإِسْنَادِہٖ غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ بِالْمَخْمِصِ وَقَالَ (لَا صَلَاۃَ بَعْدَہَا حَتّٰی یُرَی الشَّاہِدُ) ، وَالشَّاہِدُ النَّجْمُ فَقَالُوْا : طُلُوْعُ النَّجْمِ ہُوَ أَوَّلُ وَقْتِہَا وَکَانَ قَوْلُہٗ عِنْدَنَا (وَلَا صَلَاۃَ بَعْدَہَا حَتّٰی یُرَی الشَّاہِدُ) قَدْ یَحْتَمِلُ أَنَّ ھٰذَا آخِرُ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا ذَکَرَہُ اللَّیْثُ، وَیَکُوْنُ الشَّاہِدُ ہُوَ اللَّیْلُ .وَلَکِنَّ الَّذِیْ رَوَاہُ غَیْرُ اللَّیْثِ تَأَوَّلَ أَنَّ الشَّاہِدَ ہُوَ النَّجْمُ، فَقَالَ ذٰلِکَ بِرَأْیِہٖ، لَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَدْ تَوَاتَرَتِ الْآثَارُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ اِذَا تَوَاتَرَتِ الشَّمْسُ بِالْحِجَابِ .
٨٩٣: ابن اسحاق نے یزید بن ابی حبیب اور انھوں نے خیر بن نعیم حضرمی سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے صرف فرق یہ ہے اس میں مقام مخمص کا تذکرہ نہیں اور اس کے بعد کے الفاظ یہ ہیں : ” لاصلاۃ بعدھا حتی یری الشاہد “ الشاہد ستارے اور اس سے مراد رات بھی ہوتی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ دوسرا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ہو جیسا کہ لیث کے بیان سے معلوم ہوتا ہے۔ اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کثیر روایات اس سلسلہ میں آئی ہیں کہ آپ اس وقت نماز مغرب ادا فرماتے جب سورج غروب ہوجاتا۔ روایات ملاحظہ ہوں۔
ان کے علاوہ روات نے شاہد کی نجم سے تاویل کی اور کہا یہ لیث کی رائے اور قول ہے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول نہیں۔
الجواب : یزید بن حبیب راوی کی روایت لیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے شاذ ہوگئی کیونکہ اس میں شاہد رات کے معنی میں ہے نمبر ٢ طلوع نجوم بسا اوقات غروب کے ساتھ ہی ہوجاتا ہے اور یہی مغرب کا وقت ہے جیسا کہ متواتر روایات سے ثابت ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف :
کہ مغرب کی نماز غروب کے بعد ہی ہے اس کو ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء نے اختیار فرمایا۔