۸۹۴ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ، قَالَ : ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَۃَ، عَنْ أَبِیْ عَطِیَّۃَ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوْقٌ عَلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَقَالَ مَسْرُوْقٌ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ، رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کِلَاہُمَا لَا یَأْلُوْا عَنِ الْخَیْرِ .أَمَّا أَحَدُہُمَا فَیُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ، وَیُعَجِّلُ الْاِفْطَارَ، وَالْآخَرُ یُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّی تَبْدُوَ النُّجُوْمُ، وَیُؤَخِّرُ الْاِفْطَارَ - یَعْنِیْ أَبَا مُوْسٰی .قَالَتْ أَیُّہُمَا یُعَجِّلُ الصَّلَاۃَ وَالْاِفْطَارَ قَالَ : عَبْدُ اللّٰہِ .قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کَذٰلِکَ کَانَ یَفْعَلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٨٩٤: عمارہ نے ابو عطیہ سے نقل کیا کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مسروق نے سوال کیا اے ام المؤمنین ! اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے دو آدمی ہیں جو خیر کو بالکل نہیں چھوڑتے ان میں سے ایک مغرب کو جلد پڑھتا ہے اور جلد افطار کرتا ہے اور دوسرا مغرب کو اس وقت تک مؤخر کرتا ہے یہاں تک کہ ستارے ظاہر ہوں اور افطار کو بھی مؤخر کرتا ہے یعنی ابو موسیٰ انھوں نے پوچھا ان میں سے کون نماز کو اور افطار کو جلد ادا کرتا ہے میں نے کہا عبداللہ۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح کرتے تھے۔
تخریج : مسلم فی الصیام نمبر ٤٩‘ ابو داؤد فی الصوم باب ٢١‘ نمبر ٢٣٥٤‘ ترمذی فی الصوم باب ١٣‘ نمبر ٧٠٢‘ نسائی فی الصیام باب ٢٣۔