۹۱۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْیَمَانِ قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِیْ حَمْزَۃَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ (أَعْتَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃً بِالْعَتَمَۃِ، حَتَّی نَادَاہُ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ نَامَ النَّاسُ وَالصِّبْیَانُ .فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا یَنْتَظِرُہَا أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ الْأَرْضِ غَیْرُکُمْ، وَلَا یُصَلِّیْ یَوْمَئِذٍ إِلَّا بِالْمَدِیْنَۃِ .قَالَتْ وَکَانُوْا یُصَلُّوْنَ الْعَتَمَۃَ، فِیْمَا بَیْنَ أَنْ یَغِیْبَ غَسَقُ اللَّیْلِ إِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ) .
٩١٤: زہری نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز میں تاخیر کردی تو عمر (رض) نے بلند آواز سے آواز دی کہ لوگ اور بچے سو گئے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے اور فرمایا اس نماز کا انتظار اہل زمین میں سے کوئی بھی تمہارے سوا نہیں کررہا حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ان دنوں صرف مدینہ منورہ میں ہی نماز ہوتی تھی اور صحابہ کرام (رض) عشاء کی نماز اندھیرا چھا جانے کے بعد ثلث لیل تک پڑھتے تھے۔ (اس دن خلاف عادت تاخیر ہوئی) ۔
تخریج : بخاری مواقیت الصلاۃ باب ٢٢‘ الاذان باب ١٦٢‘ نسائی فی المواقیت باب ٢١‘ مسند احمد ٦؍١٩٩‘ ٢١٥‘ ٢٧٢۔