۹۱۵ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَکْرٍ قَالَ: أَنَا حُمَیْدُ ڑالطَّوِیْلُ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: (أَخَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَتَمَۃَ إِلٰی قَرِیْبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ، فَلَمَّا صَلّٰی أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہٖ فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوْا وَرَقَدُوْا،وَلَمْ تَزَالُوْا فِیْ صَلَاۃٍ مَا انْتَظَرْ تُمُوْہَا)
٩١٥: حمیدالطویل نے انس (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز کو رات کا ایک حصہ گزر جانے تک مؤخر کیا جب آپ نماز پڑھا چکے تو ہماری طرف توجہ کر کے فرمایا بلاشبہ لوگ نماز پڑھ چکے اور سو گئے اور نیند میں مستغرق ہوگئے اور تم اس وقت تک نماز میں ہو جب تک کہ نماز کے انتظار میں رہو۔
تخریج : بخاری فی الاذان باب ٣٦‘ والمواقیت باب ٢٥‘ العباس باب ٤٨‘ نسائی فی المواقیت باب ٢١‘ مسند احمد ٣؍٥‘ ١٨٩‘ ٢٠٠۔