hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 916

.

الطحاوي

916
Al Tahawi
۹۱۶ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عَفَّانُ، قَالَ : أَنَا حَمَّادٌ قَالَ : أَنَا ثَابِتٌ أَنَّہُمْ سَأَلُوْا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، کَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ؟ قَالَ : نَعَمْ .ثُمَّ قَالَ : أَخَّرَ الْعِشَائَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، حَتَّی کَادَ یَذْہَبُ شَطْرُ اللَّیْلِ، أَوْ إِلٰی شَطْرِ اللَّیْلِ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ .فَفِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ أَنَّہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی الْعِشَائَ بَعْدَ مُضِیِّ ثُلُثِ اللَّیْلِ، فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ مُضِیَّ ثُلُثِ اللَّیْلِ لَا یَخْرُجُ بِہٖ وَقْتُہَا .وَلَکِنْ مَعْنٰی ذٰلِکَ - عِنْدَنَا - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ أَنَّ أَفْضَلَ وَقْتِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ الَّذِیْ یُصَلِّیْ فِیْہِ، ہُوَ مِنْ حِیْنِ یَغِیْبُ الشَّفَقُ إِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ، وَہُوَ الْوَقْتُ الَّذِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْہَا فِیْہِ، عَلٰی مَا ذَکَرْنَا فِیْ حَدِیْثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ثُمَّ مَا بَعْدَ ذٰلِکَ إِلٰی أَنْ یَمْضِیَ نِصْفُ اللَّیْلِ فِی الْفَضْلِ، دُوْنَ ذٰلِکَ حَتّٰی لَا تَتَضَادَّ ھٰذِہِ الْآثَارُ .ثُمَّ أَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ، ہَلْ بَعْدَ خُرُوْجِ نِصْفِ اللَّیْلِ مِنْ وَقْتِہَا شَیْئٌ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ۔
٩١٦: حماد نے بتلایا کہ ثابت نے ہمیں خبر دی کہ ہم نے حضرت انس بن مالک (رض) سے دریافت کیا کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگوٹھی تھی انھوں نے کہا ہاں پھر کہنے لگے آپ نے ایک دن عشاء کو مؤخر فرمایا قریب تھا کہ رات کا ایک حصہ گزر جائے یا کہا رات کا ایک حصہ گزرنے تک مؤخر کیا پھر اسی طرح روایت نقل کی۔ ان آثار سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز ثلث شب گزرنے پر پڑھی ‘ اس سے یہ بات کھل کر پختہ ہوگئی کہ ثلث شب کا گزرنا نماز عشاء کے وقت کو خارج نہیں کرتا مگر اس کا مطلب ہمارے ہاں (واللہ اعلم) یہ ہے کہ عشاء کا سب سے افضل وقت غروب شفق کے بعد ثلث شب تک ہے اور یہی وہ وقت ہے کہ جس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر نماز پڑھا کرتے تھے جیسا کہ حدیث عائشہ صدیقہ (رض) ہم بیان کر آئے۔ اس کے بعد دوسرا نمبر وقت عشاء کا آدھی رات تک کا ہے۔ یہ تو فضیلت والے وقت میں دوسرے درجہ میں ہے تاکہ مندرجہ آثار میں تضاد نہ ہو۔ اب ہم نصف شب کے بعد والے وقت سے متعلق روایات پر نگاہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ روایات ملاحظہ ہوں۔
تخریج : مسلم ١؍٢٢٩۔
حاصل روایات : ان آٹھ روایات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آپ نے ثلث لیل گزرنے پر عشاء کی نماز پڑھی تو ثلث لیل گزرنے سے عشاء کا وقت ختم نہیں ہوا بلکہ باقی رہا۔
ایک اعتراض :
اگر نصف رات تک وقت باقی ہے تو امامت جبرائیل میں پھر دونوں رات ایک ہی وقت میں نماز کیوں پڑھائی گئی۔
ازالہ :
ثلث لیل سے پہلے پڑھنے کا ثواب زیادہ ہے فضیلت کی طرف رغبت کے لیے ثلث لیل میں عشاء ادا فرمائی۔
روایات میں تطبیق کا طریقہ :
عشاء کا افضل وقت تو وہی ہے جس کا تذکرہ احادیث امامت میں ہے وہ غروب شفق سے ثلث لیل ہے حضرت عائشہ (رض) کی روایت کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی میں عموماً نماز ادا فرماتے اور اس کے بعد والا حصہ فضیلت میں اس سے کم درجہ ہے اس سے روایات کے مابین تضاد باقی نہیں رہتا۔

فریق دوم :
نصف لیل کے بعد طلوع فجر تک وقت کے قائلین۔
امام ابوحنیفہ اور ابن مبارک (رح) طلوع صبح تک اور امام احمد بھی ضرورت کے وقت صبح تک کو عشاء کا وقت مانتے ہیں۔